مردوں میں دل کی بیماری خواتین سے سات سال پہلے ظاہر ہوتی ہے: تحقیق

مردوں میں دل کی بیماری خواتین سے سات سال پہلے ظاہر ہوتی ہے: تحقیق

بھارتی ٹی وی کے مطابق دل اور خون کی نالیوں سے متعلق امراض دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکے ہیں، عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سال 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ افراد ان بیماریوں کے باعث جان سے گئے، جن میں سے 85 فیصد اموات دل کے دورے اور فالج کی وجہ سے ہوئیں۔

یہ تحقیق کارڈیا (کورونری آرٹری رسک ڈیولپمنٹ اِن ینگ ایڈلٹس) نامی طویل المدتی ریسرچ کے ڈیٹا پر مبنی ہے اور اس کے نتائج جرنل آف امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع کیے گئے ہیں، تحقیق کے مطابق مرد 50.5 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے دل کی بیماری کے 5 فیصد امکانات تک پہنچ جاتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہی سطح اوسطاً 57.5 سال کی عمر میں سامنے آتی ہے۔

ریسرچ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کورونری ہارٹ ڈیزیز دل کی بیماری کی سب سے عام قسم ہے اور مردوں میں یہ مسئلہ خواتین کے مقابلے میں تقریباً 10 سال پہلے ظاہر ہو جاتا ہے، تاہم فالج اور ہارٹ فیل ہونے کے معاملات میں مرد و خواتین دونوں میں خطرات تقریباً ایک ہی عمر میں سامنے آتے ہیں۔

محققین کے مطابق مرد و خواتین کے درمیان دل کی بیماری کے خطرے میں فرق 35 سال کی عمر سے ہی نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے اور درمیانی عمر تک برقرار رہتا ہے۔

تحقیق کے لیے 18 سے 30 سال کی عمر کے پانچ ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا، جن کا 30 سال تک مشاہدہ کیا گیا، کم عمر افراد پر مشتمل اس گروپ نے ابتدائی عمر میں دل کی بیماری کے اسباب کو سمجھنے میں مدد دی۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دل کی بیماری سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں نہایت ضروری ہیں۔ تمباکو نوشی ترک کرنا، متوازن اور صحت بخش غذا کا استعمال، باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ میں کمی، مناسب نیند اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر کی باقاعدہ جانچ دل کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے دل کی بیماری کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔