سائبیریا کا واقعہ، حقیقت کیا ہے اور شور کیوں؟

سائبیریا کا واقعہ، حقیقت کیا ہے اور شور کیوں؟

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعوے ثابت ہو چکے ہیں؟ اب تک سامنے آنے والے سرکاری اور طبی حقائق ایسی کسی وبا کی تصدیق نہیں کرتے۔

مرنے والی خاتون کا نام داریا شیپیلووا تھا، وہ 28 سال کی تھیں اور ارکتسک میں انسدادِ طاعون کے ایک تحقیقی ادارے سے وابستہ تھیں، انہیں شدید نمونیا کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں 2 اکتوبر کو ان کا انتقال ہوگیا۔

یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے اور ان کی موت کی مکمل وجہ سامنے آنی چاہیے، تاہم کسی شخص کا طاعون پر تحقیق کرنے والے ادارے میں ملازم ہونا خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس کی موت طاعون سے ہوئی۔

یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے، طاعون کوئی وائرس نہیں بلکہ Yersinia pestis نامی بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماری ہے، اسے کسی پراسرار نئے وائرس کے طور پر پیش کرنا طبی طور پر درست نہیں۔

روسی صحت عامہ کے نگران ادارے روسپوتریب نادزور کے مطابق داریا شیپیلووا میں نامعلوم وجہ سے پیدا ہونے والے نمونیا کی تشخیص ہوئی۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے جسم سے لیے گئے نمونوں میں ایسا کوئی خطرناک جرثومہ نہیں ملا جس کا تعلق ان کے پیشہ ورانہ کام سے ثابت ہوتا ہو۔

روسی حکام نے لیبارٹری میں خطرناک شیشی ٹوٹنے یا کسی حفاظتی حادثے کی بھی تصدیق نہیں کی، ایک تحقیقاتی کمیشن نے ادارے کے حفاظتی نظام اور کام کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا، لیکن کسی حادثے کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔

اس کے باوجود حکام نے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا، داریا سے رابطے میں آنے والے تقریباً دو سو افراد کو احتیاطاً طبی نگرانی میں رکھا گیا، متعلقہ لیبارٹری اور بعض طبی مراکز میں عارضی حفاظتی پابندیاں لگائی گئیں، بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کیے گئے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو ابتدا ہی میں روکا جا سکے۔

تازہ سرکاری معلومات کے مطابق تقریباً پانچ ہزار لیبارٹری ٹیسٹ مکمل کیے گئے، ان میں کسی خطرناک جرثومے یا طاعون کی تصدیق نہیں ہوئی، زیرِ نگرانی افراد صحت مند رہے اور بیشتر کو طبی نگرانی سے بھی فارغ کر دیا گیا۔

اس موقع پر بین الاقوامی میڈیا کے اندازِ رپورٹنگ پر سوال اٹھتا ہے، روسی حکام اگر احتیاطی قرنطینہ نہ کرتے تو ان پر غفلت کا الزام لگایا جاتا، جب انہوں نے لوگوں کو نگرانی میں رکھا، ٹیسٹ کیے اور طبی مراکز میں پابندیاں لگائیں تو انہی اقدامات کو کسی چھپائی گئی وبا کا ثبوت قرار دیا جانے لگا۔

حقیقت یہ ہے کہ قرنطینہ کا مطلب بیماری کی تصدیق نہیں ہوتا، یہ ایک حفاظتی قدم بھی ہو سکتا ہے، دو سو افراد کو طبی نگرانی میں رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب بیمار تھے، دستیاب معلومات کے مطابق ان میں کسی شخص میں طاعون نہیں پایا گیا۔

عالمی ادارۂ صحت نے بھی روس سے اس واقعے کی مزید تفصیلات مانگی ہیں، کسی عالمی ادارے کا معلومات طلب کرنا معمول کی بات ہے اور روسی حکام کو مطلوبہ طبی معلومات فراہم کرنی چاہییں۔

لیکن عالمی ادارۂ صحت نے روس سے باہر اس بیماری کے پھیلاؤ کے خطرے کو انتہائی کم بھی قرار دیا ہے، بدقسمتی سے کئی بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس اہم بات کو نمایاں جگہ نہیں دی، ان کی زیادہ توجہ طاعون، قرنطینہ، پراسرار موت اور ممکنہ لیبارٹری حادثے جیسے الفاظ پر رہی۔

صحافت میں الفاظ کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ “مشتبہ طاعون” اور “طاعون سے موت” ایک ہی بات نہیں، اسی طرح “ممکنہ لیبارٹری حادثہ” اور “لیبارٹری میں خطرناک شیشی ٹوٹ گئی” بھی دو مختلف باتیں ہیں۔

جب شبہے کو حقیقت اور امکان کو حتمی نتیجے کے طور پر پیش کیا جائے تو خبر کم اور سنسنی زیادہ پیدا ہوتی ہے۔

کورونا وبا کے بعد دنیا کسی بھی نامعلوم نمونیا یا لیبارٹری سے متعلق واقعے پر زیادہ حساس ہے، یہ حساسیت اپنی جگہ درست ہے، کسی بھی ممکنہ وبا کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن احتیاط اور خوف پھیلانے میں فرق ہوتا ہے۔

روس سے وضاحت مانگنا درست ہے، لیکن ثبوت سامنے آنے سے پہلے روس کو کسی نئی وبا کا مرکز قرار دینا درست نہیں، اسی طرح سوشل میڈیا پر چلنے والے دعوے کو تصدیق کے بغیر عالمی خبر بنا دینا بھی ذمہ دارانہ صحافت نہیں۔

روس کے خلاف موجودہ سیاسی ماحول بھی اس رپورٹنگ پر اثر انداز ہوتا دکھائی دیتا ہے، روس سے متعلق کوئی بھی منفی خبر تیزی سے عالمی شہ سرخی بن جاتی ہے، اگر خبر میں لیبارٹری، خطرناک بیماری اور قرنطینہ کے الفاظ موجود ہوں تو معاملہ مزید سنسنی خیز بنا دیا جاتا ہے۔

روس کے سرکاری بیان کو لازماً درست ماننا ضروری نہیں، ہر سرکاری دعوے کی جانچ ہونی چاہیے، لیکن اسی اصول کا اطلاق روس مخالف دعووں پر بھی ہونا چاہیے، اگر ماسکو سے ثبوت مانگا جا رہا ہے تو شیشی ٹوٹنے اور طاعون سے موت کے دعوے کرنے والوں سے بھی ثبوت مانگنا چاہیے۔

اب تک سامنے آنے والی صورتِ حال یہ ہے کہ ایک نوجوان خاتون شدید نمونیا سے انتقال کر گئی، چونکہ وہ انسدادِ طاعون کے ادارے میں کام کرتی تھیں، اس لیے حکام نے فوری اور سخت احتیاطی اقدامات کیے، تقریباً دو سو افراد کی نگرانی کی گئی، ہزاروں ٹیسٹ کیے گئے، لیکن کسی دوسرے شخص میں طاعون یا متعلقہ خطرناک جرثومہ نہیں ملا۔

مبینہ دوسرے مریض کی اطلاع کو بھی روسی حکام نے غلط قرار دیا ہے، علاقے کی صحت عامہ کی صورتِ حال مستحکم بتائی جا رہی ہے اور کسی وبا کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایسی صورت میں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ داریا شیپیلووا کی موت کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور طاعون کی تصدیق نہیں ہوئی، یہ کہنا کہ روس میں طاعون پھیل گیا ہے، موجودہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

روسی حکام کا فوری ردعمل، رابطوں کی تلاش، قرنطینہ، بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور طبی نگرانی اس بات کی علامت ہے کہ ممکنہ خطرے کو سنجیدگی سے لیا گیا، یہ اقدامات کسی ناکامی کے بجائے صحت عامہ کے نظام کی احتیاط کو ظاہر کرتے ہیں۔

تاہم روسی حکام کو بھی اس واقعے کی حتمی طبی رپورٹ جلد جاری کرنی چاہیے، بیماری کی اصل وجہ، کیے گئے ٹیسٹ اور تحقیقاتی نتائج واضح انداز میں سامنے آنے چاہییں۔ بروقت اور مکمل معلومات ہی افواہوں اور غیر ضروری خوف کو ختم کر سکتی ہیں۔

اس پورے معاملے کو روس کے خلاف مکمل سازش کہنا بھی قبل از وقت ہوگا، البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ عالمی میڈیا کے ایک حصے نے غیر مصدقہ دعووں کو بہت زیادہ نمایاں کیا، جبکہ منفی ٹیسٹوں، صحت مند رابطوں اور انتہائی کم عالمی خطرے کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہیے تھی۔

داریا شیپیلووا کی موت ایک انسانی سانحہ ہے، اس کی وجہ کا فیصلہ سائنسی تحقیق کو کرنا چاہیے، سیاسی بیانات یا خوف پھیلانے والی شہ سرخیوں کو نہیں۔

فی الحال دستیاب حقائق کسی وبا کی نشاندہی نہیں کرتے، وہ ایک افسوس ناک موت کے بعد روسی حکام کی جانب سے کیے گئے وسیع حفاظتی اقدامات کی تصویر پیش کرتے ہیں، ذمہ دار صحافت کا تقاضا یہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک شبہے کو شبہ اور حقیقت کو حقیقت ہی لکھا جائے۔