خلاصہ
- ٹورنٹو: (ویب ڈیسک) کینیڈا کے معروف اشاعتی ادارے بورئیل نے ہیٹی نژاد کینیڈین ناول نگار تھیلیسن اوریلین کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلقات ختم کر لیے۔
اشاعتی ادارے بورئیل کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں ان کے ناول کی تیاری کے دوران مصنوعی ذہانت کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔
اوریلین کے ناول ’یہ کرو یا مر جاؤ‘ پر ستمبر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے الزامات سامنے آئے تھے، پبلشر نے ناول کے مختلف مسودوں کا بیرونی ماہرین سے تجزیہ کرایا، جس میں بعض دستاویزات کے میٹا ڈیٹا میں مصنوعی ذہانت سے متعلق نشانات پائے گئے۔
ادارے نے تسلیم کیا کہ ناول لکھنے کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی اصل حد کا حتمی تعین ممکن نہیں۔
فرانس کے معتبر ادبی انعام گونکور کی فہرست سے بھی ناول کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے الزامات کے بعد خارج کردیا گیا تھا، ناول کے تراجم 20 سے زائد ممالک میں شائع ہونے کے لیے طے تھے۔
تھیلیسن اوریلین نے پہلے ناول کو مصنوعی ذہانت سے لکھنے کے الزامات مسترد کیے تھے اور انہیں اپنے خلاف بہتان قرار دیا تھا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ تخلیقی عمل کے دوران تاریخی تحقیق کے لیے مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کیے تھے۔
تھیلیسن کا کہنا ہے کہ ناول لکھنے کا آغاز 2017 میں کیا تھا اور کتاب کا متن کسی مشین نے تخلیق نہیں کیا۔