خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ وفاق اور صوبے دونوں کو ٹیکس اکٹھے کرنے چاہئیں لیکن صوبوں کو اس میں زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
الحمرا میں سہ روزہ تھنک فیسٹ کے دوران ’این ایف سی، طرز حکمرانی اور مالی بحران ‘ کے عنوان پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ ریاست کا کام صرف ٹیکس اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اس سےتھوڑا اور آگے جانا چاہئے، پراپرٹی ٹیکس صوبوں کے پاس ہے، ایسا نہیں کہ صوبوں کی نیت خراب ہے، صوبوں کے اوپر پریشر نہیں، صوبوں کو اچھے پیسے ملتے ہیں۔
راشد لنگڑیال نے کہا کہ صوبوں میں کئی جگہوں پر گورننس کے حوالے سے اچھا کام بھی ہوا، فیسکل فیڈریشن کی وہاں ضرورت پڑتی ہے جہاں فیڈریشن ہو اور پاکستان ایک فیڈریشن ہے، 2009 کے این ایف سی میں 15 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی فکس کیا گیا تھا، 15 فیصد تک پہنچنے میں جی ڈی پی کا 2.5 فیصد ہمیں ٹیکس جمع کرنا چاہئے لیکن ہم 0.8 فیصد اکٹھا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت صوبے 2فیصد ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں جبکہ وفاق 11 فیصد ٹیکس اکٹھا کرتا ہے، صوبے زرعی مد میں 0.2 فیصد ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں جبکہ وفاق صرف 5فیصد ٹیکس اکٹھا کرتا ہے، انڈیا میں پاکستان کی نسبت زراعت میں 100فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاق کو فضول خرچے بھی کم کرنے ہوں گے، این ایف سی لیونگ کمیشن ہے، یہ کوئی ڈیڈ کمیشن نہیں، کسی زمانے میں لینڈریونیو ریاست کی کمائی کا ذریعہ تھا، انگریزوں کے آنے کے کئی سال بعد تک لینڈریونیو سے ہی ساری ریاست چلتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کسٹم ڈیوٹی اورایکسائز ٹیکس بڑھنے سے ڈیوٹیز زیادہ ہے، کسٹم ڈیوٹی اورایکسائز ٹیکس بڑھنے سے جی ایس ٹی زیادہ ہے، سب صوبوں کو ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا، صوبوں کو ریاست سے تھوڑی زیادہ محنت کرنا پڑے گی، فیڈریشن کو بہت سے خرچے نہیں کرنے چاہئیں۔
صوبوں کے شیئر کم کرنے کی بات ہو رہی ہے: مفتاح اسماعیل
اس موقع پر سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آج کل دسویں این ایف سی ایوارڈ کی ڈسکشن شروع ہوئی ہے، 2009 میں ساتواں این ایف سی ایوارڈ پاس ہوا تھا، ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے 57.16 فیصد صوبوں کو شیئر جاتا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو 1 فیصد دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے زیادہ ملتا ہے، 28 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے شیئر کم کرنے کی بات ہو رہی ہے، وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وفاق پر خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔