خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جس طرح کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی اب قومی سلامتی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے، ڈیجیٹل نظاموں کی ہیکنگ نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عام شہریوں، معیشت اور جمہوری عمل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
الحمرا لاہور میں سہ روزہ تھنک فیسٹ (افکارِ تازہ) کے دوسرے روز ایک خصوصی مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر کسی ملک کے ڈیجیٹل سسٹمز کو ہیک کر لیا جائے تو اس کا پاور گرڈ فیل کیا جا سکتا ہے، سمارٹ سٹی کے کیمروں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں، اگر بینکاری نظام میں مداخلت ہو جائے تو نہ صرف مالیاتی شفافیت بلکہ پورے مالیاتی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آنے والے دور میں چونکہ ہتھیار بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، اس لیے قومی دفاع کا تعلق بھی براہِ راست ڈیجیٹل سکیورٹی سے جڑ گیا ہے، ڈیجیٹائزیشن جتنی اہم ہو گئی ہے، سائبر سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکی ہے، یہ چیلنجز صرف قومی سطح تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گوگل جیسے ڈیجیٹل نظام کسی فرد کی نفسیات، پسند ناپسند اور آئندہ فیصلوں کا اندازہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے بھی بہتر لگا سکتے ہیں، جس کی وجہ بگ ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کی غیر معمولی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بگ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے جمہوریت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ووٹرز کی رائے اور انتخابی فیصلوں کو متاثر اور منظم طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، اگر انہوں نے اب تک نیٹ فلکس پر موجود فلم ’دی گریٹ ہیک‘ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں، کیونکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لوگوں کی سوچ، رائے اور فیصلوں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک نئی اور طاقتور مینیپولیٹو صلاحیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانا اب انتہائی آسان ہو چکا ہے، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد کے بعد ایک عام آدمی کے لیے یہ پہچاننا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی ویڈیو یا آڈیو اصل ہے یا مصنوعی، اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے، جسے مختلف عناصر اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ وہ خود ڈیجیٹل عدم برداشت، نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے نتائج کا شکار رہ چکے ہیں، 2018 میں بعض سیاسی گروہوں نے مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ڈس انفارمیشن اور ہیٹ اسپِیچ پھیلائی، جس سے متاثر ہو کر ایک نوجوان نے ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی، حملہ آور سے ان کا کوئی ذاتی تعلق، جھگڑا یا دشمنی نہیں تھی، لیکن صرف آن لائن نفرت انگیز مواد سے متاثر ہو کر اس نوجوان نے یہ قدم اٹھایا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حملے میں چلائی گئی گولی آج بھی ان کے جسم میں موجود ہے اور انہیں روزانہ اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ نفرت اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنا کتنا ضروری ہے، اللہ نے تو ان کی جان بچا لی، لیکن اس واقعہ میں ایک نوجوان کی زندگی بھی تباہ ہو گئی جو جیل پہنچ گیا، حالانکہ اگر وہ نفرت انگیز مواد سے متاثر نہ ہوتا تو ایک کارآمد شہری بن سکتا تھا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل میں ڈیجیٹل ریزیلینس پیدا کرنا بے حد ضروری ہے، تاکہ وہ ڈیجیٹل ذرائع سے آنے والی معلومات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کے بجائے جانچ سکیں، اگر افراد میں جھوٹ اور سچ میں فرق کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ آسانی سے غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں انتشار کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید دور کی جنگ اب معلومات کے میدان میں لڑی جا رہی ہے، جہاں بہت آسانی سے لوگوں کے درمیان خوف، بداعتمادی اور تقسیم پیدا کی جا سکتی ہے، انفارمیشن وار کے ذریعے ریاست کے اندر شہریوں اور اداروں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور مذہب، لسانیت اور دیگر حساس بنیادوں پر معاشرے کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیمی نظام کے ذریعے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ اور معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ناگزیر ہے، اسی مقصد کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جامعات کو اس بات کا پابند بنائے کہ طلبہ میں ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی اہلیت پیدا کی جائے۔