برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے: اطہر من اللہ

برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے: اطہر من اللہ

الحمرا میں سہ روزہ تھنک فیسٹ 2026 کے آخری روز خصوصی گفتگو میں جسٹس (ر) اطہر من اللہ نے بتایا کہ مجھے خوشی ہے میں جانوروں کے حقوق پر فیصلہ دے چکا ہوں، جانوروں اور انسانوں کے ساتھ زیادتی میں خاص فرق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں معاملے ایک ہی سوچ سے آتے ہیں، یہ سوچ معاشرے میں ظلم پھیلاتی ہے، بنیادی حقوق معاشرے میں حکومت کی جانب سے لاگو کروائے جاتے ہیں، معاشرے کی طاقت برابری میں ہوتی ہے۔

اطہر من اللہ نے واضح کیا کہ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب جمہوریت نہیں ہوتی، جب ملک ایک اتھاریٹیرین سوچ سے چلتے ہیں، پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جہاں آئین موجود ہے، بنیادی حقوق موجود ہیں لیکن یہ کاغذ پر ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ کاغذی باتیں عملی زندگی میں کوئی حصہ رکھتی ہیں؟ یہاں پر اتھاریٹیرین سسٹم ہے، اس سسٹم سے سب سے زیادہ نقصان عام اور غریب آدمی کا ہوتا ہے، اتھاریٹیرین نظام ایک کمزور ملک کی نشانی ہوتی ہے مضبوط ملک کی نہیں۔

جسٹس (ر) اطہر من اللہ نے حاضرین سے کہا کہ ہمیں خود سے سوال کرنا ہو گا کہ کیا ہم جمہوری ملک میں ہیں یا اتھاریٹیرین نظام میں ہیں؟ کاوان نامی ہاتھی کے حق کئے گئے فیصلے میں بہت سی باتیں نہیں لکھیں کیوں کہ وہ شرمندگی کا باعث بنتیں۔