خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ماحولیاتی بحران محض ایک ماحولیاتی آفت نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون اور انصاف کی ناکامی ہے۔
تھنک فیسٹ 2026 کے دوسرے روز وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے الحمرا آرٹس کونسل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الگ تھلگ تحقیق کا دور ختم ہونا چاہئے اور اس کی جگہ سائنسی سفارت کاری کو فروغ دیا جانا چاہئے، سائنس وہ واحد پل ہے جو اقوام کے درمیان سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ تحقیق اور عالمی منصوبوں کے ذریعے رابطہ قائم کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ سائنس ہی واحد زبان ہے جو عالمی سطح پر سب کی سمجھ میں آتی ہے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک جو عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتے ہیں مگر اس کے باوجود شدید طور پر متاثر ہوتے ہیں، ان ممالک کے لیے سائنسی تعاون عیش و آرام کی چیز نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے مالی فائدے اور ماحولیاتی نقصان کے درمیان واضح عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک کاربن پر مبنی صنعتوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، وہی اکثر فوری ماحولیاتی اثرات سے کم متاثر ہوتے ہیں، انہوں نے زیادہ اخراج کرنے والے ممالک کو مالی طور پر جوابدہ ٹھہرانے کے لیے عالمی نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے واضح کیا کہ یہ بنیادی طور پر غلط ہے کہ منافع چند لوگوں تک محدود رہے جبکہ ماحولیاتی نتائج کا بوجھ اکثریت پر ڈال دیا جائے۔
اس خصوصی سیشن میں سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی، اس نشست میں پاکستان کو ماحولیاتی انصاف کی ایک مضبوط آواز کے طور پر پیش کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی پالیسی سازی میں اعداد و شمار اور اخلاقیات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔