خلاصہ
- لاہور:(دنیا نیوز) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جمہوری حکومتیں بلدیاتی نظام مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں ناکام رہیں۔
تھنک فیسٹ 2026 کے دوسرے روز تقریب سےخطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے۔
اُنہوں نے کہا کہ18ویں ترمیم کا اہم جذو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد تھا، اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے تک ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایوب خان، جنرل ضیا اور جنرل مشرف نے لوکل گورنمنٹ کا سہارا لیا، تینوں بڑے ڈکٹیٹرز نے لوکل گورنمنٹ کو اختیارات دیے جو کسی سیاسی حکومت کو 9،9 سال میسرنہیں ہوئے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم سیاست دان اس چیز سے بھی گریز کرتے ہیں، بلدیاتی نظام مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں ہم ناکام رہے، نفاذ میں ناکامی کی وجہ سے ہی 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلا کہا۔
اُن کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کی ناکامی کی اہم وجہ بیوروکریسی کا اثرانداز ہونا ہے جو اِس نظام میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے، سیاست دانوں نے اگر اپنے اختیارات لینے ہیں تو مقامی لوگوں کو بااختیار بنانا ہو گا، ورنہ اسی طرح مختلف قسم کی بیوروکریسی کے درمیان فٹ بال بنیں رہیں گے۔
وزیرَدفاع نے مزید کہا کہ اِسی طرح اقتدار میں کبھی اچکن والے اور کبھی وردی والے آ جاتے ہیں، لوکل گورنمنٹ کسی کے لیے خطرہ نہیں ہوتی بلکہ اِس سے تمام ادارے محفوظ رہتے ہیں، پتہ نہیں سیاستدان اِس سے خود کو کیوں غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کےذریعےنچلی سطح سےلیڈرشپ اوپرآتی ہے، نیویارک کا میئرنچلی سطح سےاوپرآیا، اللہ کرے اِس ڈسکشن کا کوئی نیتجہ نکلے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) سمیت کوئی بھی پارٹی لوکل گورنمنٹ کی مخالف نہ کرے،اِس نظام کےذریعےجمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔