خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر حارث رؤف نے کہا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کو بنانے اور خراب کرنے میں کپتان کا کردار ہوتا ہے، کپتان اپنے کھلاڑی سے پرفارمنس نکلوا سکتا ہے، پاکستان کے میچ ہارنے پر قومی کھلاڑی بھی دُکھی ہوتے ہیں۔
خصوصی انٹرویو کے دوران حارث روف کا کہنا تھا کہ آسٹریلین پچز سے خاص محبت نہیں، آسٹریلیا میں کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا جس سے کیریئر میں فائدہ ہوا، آسٹریلین کنڈیشنرز اور کلچر کو سمجھنا میرے کرکٹ کیریئر میں اہم رہا۔
انہوں نے کہا کہ میلبورن سٹارز کے کپتان مارنس اسٹونس نے میرے بگ بیش کیریئر میں اہم کردار ادا کیا۔
حارث روف نے کہا کہ بگ بیش اور پاکستان سپرلیگ کی کنڈیشنرز میں فرق ہوتا ہے، بگ بیش کا معیار بڑی لیگز میں شمار ہوتا ہے، اس میں بڑے کھلاڑی کھیلتے ہیں جبکہ پی ایس ایل بڑی لیگ بن رہی ہے، آکشن کے بعد مزید غیر ملکی بڑے کھلاڑی پاکستان آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑی پر تنقید اور کھلاڑی سے بدتمیزی میں فرق ہوتا ہے، ہمارے کچھ لوگ لائن کراس کر لیتے ہیں۔
حارث روف نے کہا کہ میں نے جب بھی پاکستان کیلئے کھیلا ہے ہمیشہ سو فیصد کوشش کی ہے، میرا کردار ہمیشہ وکٹیں لینا ہوتا ہے، رنز روکنا نہیں، سب سے مشکل کردار آخری اوورز میں باؤلنگ کرنا ہوتا ہے جو مجھے رول دیا جاتا ہے، ڈیتھ اوورز میں باؤلنگ کروانا آسان نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ بیگ بیش میں مجھے کہا گیا کہ دفاعی انداز میں باؤلنگ کرنے کی ضرورت نہیں، مجھے میلبورن سٹارز کی مینجمنٹ نے کہا کہ دنیا کے بیٹرز آپ سے ڈرتے ہیں۔
فاسٹ باؤلر نے کہا کہ مجھے بگ بیش میں صرف وکٹیں لینے کا کردار دیا گیا، مجھے کہا رنز کی پرواہ نہیں کرنی، میں بھی رنز روکنے والی آسان باؤلنگ کروا سکتا ہوں لیکن میرا رول لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حارث روف کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کے بعد تسلسل کے ساتھ پرفارمنس دے رہا ہوں، میرے کیریئر کا مشکل وقت نہیں، حال ہی میں پرفارمنس دی ہے، پرفارمنس دوں یا نہ دوں لیکن پھر بھی مجھ پر تنقید کی جا رہی ہے، کسی بھی کھلاڑی کو بنانے اور خراب کرنے میں آپ کے کپتان کا کردار ہوتا ہے۔