تازہ ترین
  • بریکنگ :- آئین وقانون کی خلاف ورزی نہیں کرنےدی جائےگی،اعظم نذیرتارڑ
  • بریکنگ :- کسی جتھےکواسلام آبادپرچڑھائی کی اجازت نہیں دی جائےگی،وزیرقانون
  • بریکنگ :- حکومت آئین وقانون کواپنےہاتھ کی چھڑی سمجھتی ہے،شہزادوسیم
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی پرامن مارچ کی یقین دہانی کرارہی ہے،شہزادوسیم
  • بریکنگ :- مارچ خیبرپختونخواسےشروع ہورہا،بندےیہ پنجاب سےپکڑرہےہیں،شہزادوسیم

گوشت کے بغیر گوشت جیسے ذائقہ والا ’’امپاسیبل برگر‘‘

Last Updated On 03 October,2019 08:21 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیا بھ میں فاسٹ فوڈ کے شوقین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور امریکا، یورپ سمیت دنیا بھر میں لوگوں نے اسے اپنی خوراک کا حصہ بنا لیا ہے، ڈاکٹرز کی طرف سے فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال بھی نقصان قرار دیا گیا ہے جس کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد فاسٹ فوڈ استعمال کرتی ہے، اکثر سننے کو ملتا ہے کہ فاسٹ فوڈ میں استعمال ہونے والا گوشت ہمارے جسم میں بہت ساری بیماریاں پیدا کرتا ہے، اب اس کا حل امریکی ٹیم نے نکال لیا ہے جہاں ایک برگر متعارف کرایا گیا ہے جس کا نام ’’امپاسیبل برگر‘‘ ہے، اس برگر میں گوشت نہیں ہو گا تاہم گوشت جیسا ذائقہ ضرور ہو گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے’’بزنس انسائیڈر‘‘ کے مطابق بڑے فاسٹ فوڈ سٹورز پر جب آپ امپاسیبل برگر کا آرڈر دیتے ہیں تو آپ کو گرما گرم برگر ملتا ہے جس سے بیف کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے۔ جب آپ اس کا ایک لقمہ توڑتے ہیں تو آپ کو بیف کے رسیلے ذائقہ دار گوشت کا لطف ملتا ہے تاہم حیران کن طور پر برگر میں گوشت نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: فاسٹ فوڈ کھانے کی عادی خاتون کی بینائی ختم ہونے کا خدشہ

خبر رساں ادارے کے مطابق گوشت جیسی چیز کو آپ پودوں کا گوشت کہہ سکتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں کہ سائنسدانوں نے جینیاتی تبدیلیاں کر کے پودوں پر گوشت اگانا شروع کر دیا ہے اور اب گوشت کھانے کی آپکی خواہش پوری کرنے کیلئے جانوروں کو جان سے نہیں گزرنا پڑے گا۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ گوشت بنانے کے لیے سائنس دانوں نے پودوں میں کوئی جینیاتی تبدیلیاں نہیں کیں اور نہ گوشت پودوں پر پھلوں اور پھولوں کی طرح اُگ رہا بلکہ اسے پودوں کے اجزا سے لیبارٹری میں تیار کیا جاتا ہے۔

امریکا میں دو فوڈ کمپنیاں پودوں سے گوشت تیار کر رہی ہیں جن میں سے ایک امپاسیبل فوڈز (Impossible Foods) اور دوسری بی آئنڈ فوڈز (Beyond foods) ہیں۔ دونوں کے اجزا میں معمولی سا فرق ہے جس سے انکے ذائقے اور ساخت میں بھی قدرے فرق دکھائی دیتا ہے لیکن دونوں کے بنائے ہوئے گوشت کی بنیاد پودے ہی ہیں۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ان دنوں پودوں کا جو گوشت فروخت کیا جا رہا ہے، اس کا ذائقہ، خوشبو، رنگت اور ساخت ہو بہو گائے کے گوشت یا دوسرے لفظوں میں بیف جیسی ہے۔ اسے زیادہ تر برگر اور اسی طرح کے دوسرے پکوانوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مصنوعی بیف کے پیکٹ گراسری اسٹوروں میں بھی آسانی سے مل جاتے ہیں جس سے آپ گھر پر اپنی پسند کا کھانا تیار کر سکتے ہیں۔

پودوں سے تیار کردہ گوشت کا سب سے بڑا فائدہ ہے کہ اس میں حرام حلال کا مسئلہ نہیں ہے۔ ہر مذہب اور عقیدے کا شخص اسے وسوسے اور اندیشے کے بغیر کھا سکتا ہے۔ گوشت سے پرہیز کرنے والے افراد بھی کھا کر بیف کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ پودوں کے گوشت کا بانی پیٹرک براؤن کو سمجھا جاتا ہے۔ وہ میڈیکل ڈاکٹر اور سائنس میں پی ایچ ڈی ہیں اور کیلی فورنیا کی سٹینفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر رہ چکے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے کوئی ایسا متبادل ڈھونڈنے کی کوشش میں تھے جو جانوروں کے گوشت کی جگہ لے سکے۔