خلاصہ
- کراچی: (ویب ڈیسک) سفر کے دوران اگر سمارٹ فون کی بیٹری ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے تو گاڑی میں موجود USB پورٹ کے ذریعے اسے چارج کیا جاسکتا ہے، تاہم اکثر صارفین کو شکایت ہوتی ہے کہ گاڑی میں موبائل فون کی چارجنگ گھر کے مقابلے میں بہت سست ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق فون کی چارجنگ سپیڈ کا انحصار بنیادی طور پر وولٹیج، ایمپئرز اور واٹس پر ہوتا ہے، چارجر جتنی زیادہ پاور فراہم کرے گا، عموماً فون اتنی ہی تیزی سے چارج ہوگا، بشرطیکہ فون بھی اس پاور کو سپورٹ کرتا ہو۔
موجودہ دور کے بیشتر فون چارجرز عموماً 5 سے 9 وولٹ کے درمیان پاور فراہم کرتے ہیں، جبکہ روایتی گھریلو بجلی کے آؤٹ لیٹ سے کہیں زیادہ وولٹیج دستیاب ہوتا ہے، تاہم فون براہِ راست گھریلو وولٹیج پر چارج نہیں ہوتا بلکہ چارجر اسے فون کے لیے موزوں وولٹیج اور پاور میں تبدیل کرتا ہے۔
دوسری جانب گاڑیوں میں نصب پرانی USB-A پورٹس اکثر محدود کرنٹ فراہم کرتی ہیں، جس کے باعث فون کی چارجنگ اسپیڈ کم رہتی ہے، بعض گاڑیوں کی USB پورٹس سے تقریباً 0.5 ایمپیئر تک کرنٹ دستیاب ہوتا ہے، جو جدید سمارٹ فونز کی تیز رفتار چارجنگ کے لیے کافی نہیں۔
USB-C ٹیکنالوجی نے اس صورتحال میں کسی حد تک بہتری پیدا کی ہے، کیونکہ یہ USB-A کے مقابلے میں زیادہ پاور اور تیز چارجنگ کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم USB-C پورٹ ہونے کے باوجود اگر گاڑی کی پورٹ محدود واٹ فراہم کرتی ہو تو فون تیزی سے چارج نہیں ہوسکتا۔
آسان الفاظ میں کہا جائے تو گاڑی کی USB پورٹ سے فون کی سست چارجنگ کی بنیادی وجہ محدود پاور سپلائی ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات گاڑی میں فون کئی گھنٹے منسلک رہنے کے باوجود بیٹری مکمل طور پر چارج نہیں ہو پاتی۔
اگر گاڑی میں تیز چارجنگ کے لیے مناسب USB-C پورٹ موجود نہ ہو تو زیادہ پاور فراہم کرنے والا کار چارجر استعمال کرنا فون کو نسبتاً تیزی سے چارج کرنے کا بہتر طریقہ ہوسکتا ہے۔