یوٹیوب پر فالوورز نہ بڑھے، نوجوان نے سٹوڈیو کو آگ لگا دی

یوٹیوب پر فالوورز نہ بڑھے، نوجوان نے سٹوڈیو کو آگ لگا دی

رپورٹس کے مطابق 27 سالہ ودھایک پراجاپتی گھر سے فلم ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل میڈیا پروڈکشن کا کام کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی زمین فروخت کر کے جدید سٹوڈیو قائم کیا اور امید کی کہ محنت کے ذریعے یوٹیوب پر مقبولیت حاصل کریں گے تاہم کئی مہینوں کی محنت کے باوجود مطلوبہ فالوورز نہ بڑھنے کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے۔

حادثے کی تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی رات تقریباً دس بجے ودھایک نے سٹوڈیو کے اندر خود کو بند کر کے آگ لگا دی، چند لمحوں میں دھواں پورے گھر میں پھیل گیا اور لوہے کے بند دروازے کی وجہ سے خاندان اندر پھنس گیا۔ پڑوسیوں کی اطلاع پر پولیس نے دیوار توڑ کر گھر میں داخل ہو کر اہل خانہ کو محفوظ باہر نکالا۔

سٹوڈیو میں موجود کمپیوٹر، کیمرے، ساؤنڈ سسٹمز اور لائٹنگ کے تمام آلات مکمل طور پر جل گئے۔ آگ لگانے کے بعد ودھایک نے پیچھے کی جانب چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی اور بعد ازاں رانچی کے ایک ہسپتال میں نفسیاتی علاج کے لیے داخل کروا دیے گئے۔ فی الحال خاندان مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور مقامی انتظامیہ سے مدد کی اپیل کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے دباؤ کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے، جہاں کامیابی کی دوڑ بعض اوقات ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔