خلاصہ
- دوھا: (ویب ڈیسک) جب قطر میں موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے تو بیشتر افراد شدید گرمی سے بچنے کیلئے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں میں ائیرکنڈیشنر کا سہارا لیتے ہیں۔
عام طور پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت میں باہر نکلنا مشکل سمجھا جاتا ہے، مگر اب صورتحال بدلتی نظر آ رہی ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوھا کے ساحلی علاقے میں تعمیر کیے گئے جدید جزیرے نے گرمیوں میں باہر گھومنے پھرنے کا نیا تصور متعارف کرا دیا ہے، اس انسانی ساختہ جزیرے میں ایک منفرد ائیر کنڈیشنڈ’جنگل‘ تیار کیا گیا ہے جو سیاحوں اور مقامی افراد دونوں کے لیے توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
جزیرے کے اس حصے کو کرسٹل واک کا نام دیا گیا ہے جو تقریباً 450 میٹر تک پھیلا ہوا ہے، یہاں 10 ٹن کرسٹلز استعمال کرکے مصنوعی درختوں جیسی شاخیں تیار کی گئی ہیں۔
ان درخت نما سٹرکچرز کے اوپر نصب کرسٹلز سورج کی تیز روشنی سے تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ نیچے ٹھنڈی ہوا کو برقرار رکھتے ہیں، اس جدید نظام کے باعث سال بھر اس مقام کا درجہ حرارت تقریباً 20 سے 23 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جاتا ہے چاہے باہر شدید گرمی ہی کیوں نہ ہو۔
اس منفرد سٹرکچر کو چلانے کے لیے سولر پینلز نصب کیے گئے ہیں جو سسٹم کو توانائی فراہم کرتے ہیں، یوں اسے ماحول دوست منصوبہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار توانائی کے امتزاج نے اسے خطے کا ایک نمایاں سیاحتی مقام بنا دیا ہے۔
سیاح بڑی تعداد میں اس جزیرے کا رخ کر رہے ہیں اور اس انوکھے اے سی جنگل کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں، کرسٹل واک کے علاوہ بھی گیون آئی لینڈ میں تفریح، خریداری اور آرام کے متعدد مواقع موجود ہیں جو اسے موسم گرما میں بھی ایک پرکشش مقام بناتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف سیاحت کے فروغ کا باعث بنے گا بلکہ شدید گرم علاقوں میں شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک نئی مثال بھی قائم کرے گا۔