خلاصہ
- یوٹاہ: (ویب ڈیسک) امریکا میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو 19ویں صدی کی ایک بند بوتل ملی جس میں موجود پراسرار مشروب کو محفوظ حالت میں دریافت کیا گیا، ماہرین اس کا ذائقہ چکھ کر حیران رہ گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ موسمِ گرما میں امریکی فاریسٹ سروس کی زمین پر ہونے والی ایک معمول کی کھدائی کے دوران ریاست یوٹاہ کی مٹی میں دبی ہوئی گہرے سبز رنگ کی ایک بوتل برآمد ہوئی، جو تقریباً 150 سال گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بند تھی۔
ماہرین نے احتیاط سے بوتل کھول کر اندر موجود مائع کا معائنہ کیا اور صرف سائنسی تجزیہ ہی نہیں بلکہ اس کا ذائقہ بھی چکھا۔ ماہرین کے مطابق اس مشروب کا ذائقہ پھلوں جیسا تھا جس میں ہلکی سی چمڑے جیسی مہک بھی محسوس ہوئی۔
ہائی ویسٹ ڈسٹلری کے ڈائریکٹر آئزک ونٹر نے بتایا کہ مشروب کا ذائقہ قدرے فروٹی تھا اور اس میں منفرد خوشبو موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں اسے چکھنے میں ہچکچاہٹ تھی، مگر تاریخی دریافت ہونے کی وجہ سے اسے آزمانا ضروری تھا۔
ابتدائی سائنسی تجزیوں سے معلوم ہوا کہ یہ مشروب غالباً سیب سے تیار کیا گیا تھا اور امکان ہے کہ یہ اس زمانے کا ایک قسم کا ہارڈ سائیڈر تھا۔ ماہرین اب مزید تجربات کے ذریعے اس کی حتمی تصدیق کرنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں اس مشروب کو دوبارہ تیار کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یوٹاہ میں آج الکحل سے متعلق قوانین سخت ہیں، تاہم اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1800 کی دہائی کے آخر میں وہاں کے لوگ الکحل مشروبات استعمال کرتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یوٹاہ میں کسی آثارِ قدیمہ کے مقام سے مکمل حالت میں الکحل کی بوتل ملنے کا یہ پہلا واقعہ ہے، جسے تاریخی لحاظ سے ایک غیر معمولی دریافت قرار دیا جارہا ہے۔