تازہ ترین
  • بریکنگ :- این اے 249 پرووٹوں کی دوبارہ گنتی کامعاملہ
  • بریکنگ :- کراچی:60 پولنگ اسٹیشنزپرووٹوں کی گنتی مکمل
  • بریکنگ :- امجدآفریدی کےمستردووٹوں کی تعداد34 ہوگئی،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کےقادرخان مندوخیل کے 134ووٹ مستردقرار
  • بریکنگ :- مفتاح اسماعیل کے 194ووٹ مستردقرار،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- ایم کیوایم کےحافظ مرسلین کے 108ووٹ مسترد،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- کل صبح 9بجےمزیدپولنگ اسٹیشنزکےووٹوں کی گنتی شروع ہوگی،الیکشن کمیشن

چین اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے زیادہ جارحانہ انداز سے کام لے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

Published On 03 May,2021 05:16 pm

واشنگٹن : (ویب ڈیسک) امریکا کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ تیزی سے طاقتور بنتا چین ورلڈ آرڈر کو چیلنج کر رہا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین ’زیادہ جابرانہ‘ اور ’زیادہ جارحانہ‘ انداز سے کام لے رہا ہے کیونکہ وہ اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹس‘ میں بات کرتے ہوئے انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ ہم گذشتہ کئی برسوں سے جو دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ چین اپنے گھر میں زیادہ جابرانہ انداز میں اور بیرون ملک زیادہ جارحانہ انداز میں کام کر رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا بیان امریکی صدر جو بائیڈن کے گذشتہ بدھ کو کانگریس سے اپنے پہلے خطاب کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ چین کے ساتھ تنازع نہیں بڑھانا چاہتے۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو بتایا ہے کہ اکیسویں صدی کی غالب طاقت بننے کے مقابلے میں ’ہم مقابلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہم تنازعات کی تلاش میں نہیں ہیں۔

تاہم انٹونی بلنکن کا انٹرویو میں چین کے حوالے سے کہنا تھا کہ چین دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جو قواعد پر مبنی آرڈر، جس کی ہم بہت زیادہ پروا کرتے ہیں اور اس کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں، کو کمزور کرنے یا چیلنج کرنے کی فوجی، معاشی اور سفارتی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن میں کسی چیز کے بارے میں بہت زیادہ واضح رہنا چاہتا ہوں، ہمارا مقصد چین کو قابو میں رکھنا، اسے پیچھے دھکیلنا، اسے نیچے رکھنا نہیں ہے، بلکہ اس قواعد پر مبنی نظام کو برقرار رکھنا ہے جسے چین سے خطرے کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ کئی برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ امریکہ بیجنگ کے فوجی اقدامات اور انسانی حقوق کی صورت حال پر بات کرتا رہتا ہے۔ اس میں مسلم ایغور اقلیت کا معاملہ بھی شامل ہے جسے واشنگٹن نے نسل کشی قرار دیا ہے۔