تازہ ترین
  • بریکنگ :- دونوں خوراکیں نہ لگوانےوالوں کوبھی بیماری لگنےکازیادہ خدشہ ہے،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- کوروناویکسین کی دونوں خوراکیں لگواناضروری ہیں،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- ویکسین کی ایک خوراک لگوانےوالےکمزورافرادسفرسےگریزکریں،عالمی ادارہ صحت

حماس کا جیت کا اعلان، غزہ میں جشن، فلسطینی پرچم لہرا کر خوشی کا اظہار

Published On 21 May,2021 06:15 pm

غزہ: (دنیا نیوز، ویب ڈیسک) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں 11 روز سے لڑائی کے بعد اسرائیل اور حماس نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ جنگ بندی پرعمل درآمد کے بعد رات گئے غزہ میں ‌لوگ خوشی سے سڑکوں پر نکل آئے اور جنگ بندی کی خوشی کا جشن منایا۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث شہری گھروں کے اندر محصور ہو کر رہ گئے تھے اور عیدالفطر کے موقعے پروہ عیدکی تقریبات بھی نہیں منا سکے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 11 روز اسرائیلی جارحیت میں 232 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ شہدا میں 65 بچے اور 40 خواتین شامل ہیں جبکہ 1900 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری طرف حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو فتح شہیدوں کے لہو کی بدولت ملی۔ حماس کی فتح نے دشمن کے حساب کتاب کو برباد کر دیا۔

اپنے ایک بیان میں حماس سربراہ نے کہا کہ غزہ کے شہری مقبوضہ بیت المقدس کے سامنے ڈھال کی صورت ہیں، اسرائیلی قابض افواج جان لے مقبوضہ بیت المقدس ہمارا محور ہے۔ فلسطینیوں کی مزاحمت نے اسرائیل کوعسکری اور سیاسی فرنٹ پر ناکام بنادیا۔ نئی جنگی حکمت عملی اور صلاحیت نے پورے اسرائیلی نظام کو ہلاکر رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی اعلان کے باوجود اسرائیلی فورسز کی مسجد الاقصیٰ میں نمازیوں پر شیلنگ

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف جیت فلسطینیوں کی کوششوں سے ملی۔ نہتے فلسطینی عوام نے ثابت کر دیا بیت المقدس ہمارا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس فلسطینیوں کیلئے لال لکیرہے۔

اسماعیل ہانیہ نے کہا کہ غزہ کی تعمیر و ترقی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ غزہ کے شہریوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت چکائی۔ فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کیلئے دنیا بھر میں مظاہرے کیے گئے۔ جنگ نے تمام فلسطینیوں کے اتحاد کو ایک نئے دور کی شکل دی ہے۔ حماس کی فتح نے دشمن کے حساب کتاب کو برباد کر دیا۔

دوسری طرف حزب اللہ نے اسرائیل اور حماس کے مابین 11 روزہ خونریزی کے بعد جمعہ سے جنگ بندی کے اطلاق کو فلسطینیوں کے لیے ایک ’تاریخی فتح‘ قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی تعریف کی ہے۔

یاد رہا ہے کہ حزب اللہ نے 2006 ء میں اسرائیل کے خلاف تباہ کُن جنگ لڑی تھی اور تب سے یہ لبنانی سیاست میں طاقتور قوت بنی ہوئی ہے۔ حماس کے لیڈران کے لبنانی سیاستدانوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

حزب اللہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ حزب اللہ فلسطینیوں کو صیہونی دشمن کے خلاف بہادری کے ساتھ مزاحمت جاری رکھنے اور تاریخی فتح حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔