تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 17 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 269 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 831 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 720 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.60 فیصدرہی،این سی اوسی

سی آئی اے ڈائریکٹر کی طالبان رہنما عبد الغنی برادر سے خفیہ ملاقات

Published On 24 August,2021 05:10 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنس کی طالبان رہنما ملا عبد الغنی برادر سے خفیہ ملاقات کا انکشاف ہوگیا۔

امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدے دار نے بتایا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے کابل میں افغان طالبان کے اہم عہدے دار سے ملاقات کی۔ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے پیر کے روز کابل میں ملا برادر سے ملاقات کی۔

امریکی اخبار کے مطابق دونوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی اس حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز طالبان نے کہا تھا کہ 31 اگست تک امریکا اور برطانیہ اپنا انخلا مکمل کریں اور اگر 31 اگست کے بعد بھی امریکی فوجی موجود رہتے ہیں تو اسے قبضے میں توسیع سمجھا جائے گا اور نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

طالبان کے اس بیان کے بعد برطانیہ، فرانس، جرمنی و دیگر ممالک نے کہا تھا کہ وہ ڈیڈلائن میں توسیع کے لیے اپنے شراکت داروں اور طالبان سے رابطے میں ہیں جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی تھی کہ 31 اگست تک انخلا کا آپریشن مکمل کرلیا جائے گا۔

یاد رہے کہ 15 اگست کو طالبان افغان دارالحکومت کابل میں بھی داخل ہوگئے تھے جس کے بعد ملک کا کنٹرول عملی طور پر ان کے پاس چلا گیا ہےاور افغان صدر اشرف غنی سمیت متعدد حکومتی عہدے دار فرار ہوچکے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی شہریوں کو کابل سے نکالنا امریکا کی پہلی ترجیح ہے ، امید ہے31 اگست کے بعد افغانستان میں رکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اگر رکنا پڑا تو طالبان سے بات چیت جاری ہے ، طالبان نے ابھی تک امریکی فوجیوں پر حملہ نہیں کیا۔

مزید برآں سیاسی دفتر کے طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کا افغانستان میں کوئی وجود نہیں ہے اور طالبان کا ان کی تحریک کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے، القاعدہ افغانستان میں موجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان کی تحریک کے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر بات چیت جاری ہے۔