تازہ ترین
  • بریکنگ :- جوافسران بھی سیاسی کرداراداکریں گےانہیں نتائج کاسامناکرناپڑےگا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی کارکنوں کےخلاف مختلف شہروں میں آپریشن شروع ہوگیا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- ظلم کایہ دورختم ہونےکوہےڈٹےرہو،فوادچودھری
  • بریکنگ :- حکومت سیاسی خودکشی کررہی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی رہنماؤں کےگھروں پرچھاپوں اورگرفتاریوں کی مذمت کرتےہیں،شفقت محمود
  • بریکنگ :- موجودہ حکومت اپنااصلی رنگ دکھارہی ہے،رہنما پی ٹی آئی شفقت محمود
  • بریکنگ :- پارٹی رہنماؤں اورکارکنوں کےگھروں پرپولیس چھاپوں کی مذمت کرتےہیں،اعجازچودھری
  • بریکنگ :- چادراورچاردیواری کاتقدس پامال کیاجارہاہے،سینیٹراعجازچودھری
  • بریکنگ :- ریاستی غنڈہ گردی کاڈٹ کرمقابلہ کریں گے،سینیٹراعجازچودھری
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی رہنماؤں اورکارکنوں کےگھروں پرچھاپوں کی مذمت،حسان خاور
  • بریکنگ :- امپورٹڈحکومت ریاستی دہشت گردی پراترآئی،پی ٹی آئی رہنماحسان خاور
  • بریکنگ :- بیوروکریسی امپورٹڈحکومت ‬کےغیرآئینی احکامات تسلیم نہ کرے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پوری قوم آپ کودیکھ رہی ہے،حق اورسچ کاساتھ دیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- فاشسٹ جماعتوں نےہمارےدورحکومت میں 4 لانگ مارچ کیے،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی نےاپنی حکومت میں کسی کوجلسےجلوسوں سےنہیں روکا،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- ‏جوبھی اہلکاریہ غیرقانونی کام کررہےہیں انہیں جلدحساب دیناپڑےگا،عثمان بزدار

افغان طالبان نے قرآن و سنت کے تابع نئے آئینی اساسی ڈھانچے کا اعلان کر دیا

Published On 18 September,2021 09:29 pm

کابل: (ویب ڈیسک) افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت نے 40 نکات پر مشتمل نیا آئینی اساسی ڈھانچہ تشکیل دے دیا ہے جس کا ماخذ قرآن و سنت ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں طالبان نے ملکی پہلا آئینی ڈھانچہ ترتیب دیدیا ہے۔ سرکاری مذہب اسلام ہو گا جبکہ دیگر مذاہب کے پیروکار اسلامی شریعت کے تحت عقائد کی انجام دہی میں آزاد ہوں گے۔

نئے آئینی و اساسی ڈھانچے میں مملکت کا نام امارات اسلامیہ افغانستان طے کیا گیا ہے جبکہ قومی پرچم سفید رنگ کا ہوگا جس پر کلمہ طیبہ تحریر ہوگا اور ملک کی سرکاری زبانیں پشتو اور دری ہوں گی۔

آئینی و اساسی ڈھانچے کے مطابق ملک کی خارجہ پالیسی اسلامی شریعت کے تابع ہوگی جبکہ ترجیح بنیادوں پر اور پُرامن طریقے سے پڑوسی ممالک کے ساتھ حل طلب معاملات طے کیے جائیں گے۔

آئینی و اساسی ڈھانچے میں واضح کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین کا کوئی بھی حصہ بیرونی حکومتوں کے تابع نہیں ہو گا۔ عوام کو بنیادی انسانی حقوق اور انصاف یکساں طور پر حاصل ہوں گے۔ مملکت کو چلانے کے لیے تمام امور کی انجام دہی قرآن اور سنت کے مطابق کی جائے گی۔