خلاصہ
- مقبوضہ بیت المقدس: (ویب ڈیسک) فلسطین کے صدر محمود عباس نے عبوری آئین کا مسودہ شائع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلطسین کے صدر محمود عباس کی طرف سے جاری صدارتی فیصلے کا مقصد آئینی دستاویز کی تیاری میں سماجی شرکت کے دائرے کو وسیع کرنا ہے جس کے تحت شہریوں، سول سوسائٹی کے اداروں، سیاسی قوتوں، تجزیہ کاروں اور ماہرین تعلیم کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ فیصلے کی اشاعت کی تاریخ سے 60 دنوں کے دوران مسودے پر اپنے مشاہدات اور تجاویز پیش کریں۔
میڈیا رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عبوری آئین کی تیاری کے لئے بنائی گئی کمیٹی سے وابستہ کوآرڈینیشن اور ڈرافٹنگ کمیٹی ان مشاہدات کو وصول کرنے، انہیں ترتیب دینے اور ان کا مطالعہ کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ان کی درجہ بندی آئینی اصولوں سے متعلق بنیادی مشاہدات اور تنظیم سے متعلق فنی مشاہدات میں کی جائے گی تاکہ مفاد عامہ اور قومی اتفاق رائے کے مطابق ضروری ترامیم کی جا سکیں، کمیٹی مشاہدات اور سفارشات کے مطالعے کے نتائج پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ بھی تیار کرے گی جسے ریاست کے صدر کے سامنے بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، اس کے بعد آئین کے منصوبے کا حتمی نسخہ تیار کیا جائے۔
فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام اس کے احکام پر عمل درآمد کریں گے اور یہ حکم اپنی جاری ہونے کی تاریخ سے ہی نافذ العمل ہوگا اور سرکاری گزٹ میں شائع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ صدارتی حکم نامے کے تحت تشکیل دی گئی دستور ساز قومی کمیٹی نے صدر کی جانب سے تفویض کیے جانے کے فوراً بعد اپنا کام شروع کر دیا تھا تاکہ اپنے کام کو مکمل کر سکے، اس کام میں تقریباً 7 ماہ کا مسلسل وقت لگا اور اس دوران تقریباً 70 اجلاس ہوئے جن میں مختلف سول سوسائٹی کے اداروں اور متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا۔