خلاصہ
- دوحہ: (ویب ڈیسک) دنیا بھر کے 100 سے زائد ممتاز فنکاروں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیز کی حمایت میں ایک کھلا خط جاری کیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف بین الاقوامی حلقوں کی جانب سے ان سے مستعفی ہونے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
موسیقاروں، اداکاروں اور ادیبوں پر مشتمل فنکاروں کے گروپ ’آرٹسٹس فار فلسطین‘ کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں کہا گیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیزکی مکمل حمایت کرتے ہیں، جو انسانی حقوق اور فلسطینی عوام کے حقِ وجود کی محافظ ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں ہم جیسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ طاقت نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی ہو، اور جو جانتے ہیں کہ لفظ ’قانون کا حقیقی مطلب کیا ہے۔
حمایت کرنے والوں میں ہالی ووڈ اداکار مارک روفیلو، ہسپانوی اداکار حاویئر باردم، نوبیل انعام یافتہ فرانسیسی مصنفہ اینی ارنوکس اور برطانوی گلوکارہ اینی لینوکس شامل ہیں۔
گزشتہ ہفتے الجزیرہ فورم کے دوران فرانچسکا البانیز نے غزہ میں اسرائیلی جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بطور انسانیت ہمارا ایک مشترکہ دشمن ہے۔
بعد ازاں ایک جعلی ویڈیو سامنے آئی جس میں انہیں اسرائیل کو مشترکہ دشمن قرار دیتے دکھایا گیا، تاہم اس ویڈیو کی تردید کر دی گئی۔
فرانچیسکا البانیز نے وضاحت کی کہ وہ دراصل ’اس نظام‘ کی بات کر رہی تھیں جس نے فلسطین میں نسل کشی کو ممکن بنایا۔
اس کے باوجود فرانس اور جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک نے ان کی برطرفی کا مطالبہ جاری رکھا ہے، فرانسیسی ارکانِ پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے وزیر خارجہ کو خط لکھ کر البانیز کے بیانات کو یہود دشمنی قرار دیا۔
بعد ازاں فرانسیسی وزیر خارجہ نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، جبکہ جرمن وزیر خارجہ نے بھی ان کی پوزیشن کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
مصنف اور فلم پروڈیوسر فرینک برات کا کہنا ہے کہ مغربی حکومتیں بظاہر بین الاقوامی قانون کی حمایت کرتی ہیں لیکن عملی طور پر اس کے برعکس رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، البانیزے گزشتہ 2 برس سے اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں پر نسل کشی روکنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، مگر غزہ کے معاملے میں یہ ذمہ داری پوری نہیں کی گئی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان نے بھی کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے عہدیداروں اور آزاد ماہرین کے خلاف ذاتی حملوں، دھمکیوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جو اصل انسانی حقوق کے مسائل سے توجہ ہٹانے کا باعث بنتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 10 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں تقریباً 600 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں کم از کم 72 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔