پائیدار امن کیلئے بورڈ آف پیس کے علاوہ کوئی فورم نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

پائیدار امن کیلئے بورڈ آف پیس کے علاوہ کوئی فورم نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

غزہ بورڈ آف پیس کا اجلاس ڈونلڈ ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہورہا ہے جہاں سعودی وزیر خارجہ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیراعظم شہباز شریف ، انڈونیشیا،قطر، یواے ای ،آذربائیجان اور غزہ بورڈ آف پیس کے دیگر رکن ممالک بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

یہ اجلاس جنگ بندی کے بعد غزہ کے انتظامی و بحالی امور کی نگرانی کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی خصوصی دعوت پر شریک ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افتتاحی خطاب میں فلیڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے۔

امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم انسان، اعلیٰ سپہ سالار اور ٹف فائٹر ہیں۔ انھوں نے جنگ رکوانے اور لاکھوں زندگیاں بچانے پر میری تعریف کی تھی، وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو بہت پسند کرتا ہوں۔ وہ بھی میری جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے رہتے ہیں۔

 ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مارکوروبیو ،اسٹیو وٹکوف نے جیرڈکشنر نے غزہ کیلئے بہت کام کیا، بورڈ آف پیس میں بہت سے پیارے ملک شامل ہیں ، ہم سب قیام امن کیلئے کوششیں کررہے ہیں، ہمیں امن کیلئے مزید محنت سے کام کرنا ہوگا، اہداف کے حصول کیلئے بورڈ آف پیس کے علاوہ کوئی فورم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا میں نویں جنگ بھی ختم کرانے کے قریب ہیں، کچھ جنگیں 35،کچھ 32سال سے جاری تھیں،دنیا میں امن سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ ہوا۔

ان کا کہناتھا کہ میں نے پاکستان اوربھارت کے درمیان جنگ رکوائی، پاک بھارت جنگ میں 11طیارے گرائے گئے، پاکستان کے فیلڈ مارشل عظیم شخص ہیں، فیلڈ مارشل بہت بڑے فائٹر ہیں، میں شہبازشریف کو بہت پسند کرتا ہوں، جنگ کے دوران ڈیل کرانا مشکل کام ہوتا ہے، پاک بھارت جنگ کے دوران وزیراعظم شہباشریف سے تعلقات مضبوط ہوئے۔

امریکی صدر کا کہناتھا کہ پاک بھارت جنگ میں بہت شدت آرہی تھی، میں نے اپنا کردار ادا کراتے ہوئے جنگ کو رکوایا، بھارتی وزیراعظم سے کہا جنگ نہ روکی تو بھاری ٹیرف لگاؤں گا۔

اس کے بعد بورڈ آف پیس میں شامل مختلف ممالک کے ایک درجن سے زائد غیر ملکی رہنما بھی مختصر تقاریر کریں گے، جن میں غزہ کی بحالی، سیکیورٹی، انسانی امداد اور طویل المدتی استحکام سے متعلق اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کی جائیں گی۔

امریکی حکام کے مطابق بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد ایک ایسا بین الاقوامی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جو امن، تعمیرِ نو اور انسانی امداد کو یقینی بنا سکے۔