سپریم لیڈر کی شہادت: ایرانی عوام سڑکوں پر، اصفہان میں بڑا مظاہرہ، امریکا کیخلاف نعرے بازی

سپریم لیڈر کی شہادت: ایرانی عوام سڑکوں پر، اصفہان میں بڑا مظاہرہ، امریکا کیخلاف نعرے بازی

عراقی دارالحکومت بغداد میں ایران کے حمایتی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز آمنے سامنے آگئے، عراقی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال کیا، امام رضا کے روضے پر سیاہ پرچم لہرا دیا گیا، عراق میں مقدس روضوں پر سرخ لائٹیں روشن کر دی گئی۔

خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، ان کا کہنا تھا ایرانی قوم اسلامی اسباق جانتی ہے، ایرانی قوم کو پتہ ہے انہوں نے کیا کرنا ہے، خامنہ ای نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا قول بھی نقل کیا۔

واضح رہے کہ ایرانی میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت کی تصدیق کر دی تھی، انہیں دفتر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید کیا گیا تھا، ان کا بیٹا، بہو اور نواسی بھی شہید ہو گئے، اسرائیلی میڈیا نے ایران کے 40 سے زیادہ حکام قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ایران نے 27 امریکی اسرائیلی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی۔

1989ء سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی و اسرائیلی حملے میں اس وقت قتل کیا گیا جب وہ اپنے دفتر میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے، ایرانی حکومت نے ان کی شہادت پر سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، ایران نے خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر شروع کی جائے گی۔

خیال رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے آخری خطاب میں آخری دعا مانگی تھی کہ یااللہ مجھے شہادت نصیب فرما، یاللہ مجھے شہدا کے ساتھ رکھنا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے محل پر اسرائیل اور امریکا نے 30 بم گرائے، امریکا اور اسرائیل نے حملے کے لیے انتظار کیا تاکہ اعلیٰ مشیران کو بھی ایک ہی جگہ نشانہ بنایا جا سکے، امریکی و اسرائیلی انٹیلی جنس نے تین اہم اجلاسوں کے بعد دن کے وقت حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔