جنگ کا دوسرا ہفتہ، امریکی و اسرائیلی حملوں میں شدت: ایران کا 220 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

جنگ کا دوسرا ہفتہ، امریکی و  اسرائیلی حملوں میں شدت: ایران کا 220 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

امریکی میڈیا کے مطابق تازہ حملوں میں فوجی اڈوں، میزائل لانچر اور پاسداران انقلاب کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے اس امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری آبادی پر بم برسائے گئے، اسرائیل نے ایران کے 80 لڑاکا طیارے بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 3 دن میں 42 ایرانی بحری جہاز تباہ کیے، آج ایران کو شدت سے نشانہ بنائیں گے: ٹرمپ

ہلال احمر کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 5 ہزار 535 رہائشی یونٹس، ایک ہزار 41 کمرشل یونٹس، 14 میڈیکل سینٹرز، 65 سکولوں اور ہلال احمر کے 13 مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

24 گھنٹوں میں 220 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی کر دیے، ایرانی فوج
ایران کی جانب سے بھی اسرائیل اور امریکا کے خلاف حملوں کی نئی لہر میں تباہ کن کارروائیاں کی گئی ہیں، ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یو ایس ففتھ فلیٹ کے 21 فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا، الظفرہ ایئربیس پر 200 امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں سے حملہ

انہوں نے بتایا کہ شمالی خلیج فارس میں امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، ایران نے تل ابیب میں سٹریٹجک اہداف پر بھی میزائل حملہ کیا جس سے عمارتیں لرز گئیں، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے صوبہ ہرمزگان میں ایک اسرائیلی ڈرون بھی مار گرایا ہے۔

ایرانی اقدامات میں شدت کی ذمہ داری امریکا پرعائد ہوگی، عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی کشیدگی کیلئے تیار ہے، ایرانی صدر کی تناؤ میں کمی کی کوششیں ٹرمپ کی غلط فہمی سے متاثر ہوئیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکا کو جنگ میں دھکیل دیا، یہ جنگ اسرائیل کو مقدم رکھنے والوں کی پسند کی جنگ ہے۔