خلاصہ
- نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں شروع ہونے والی کاکروچ تحریک کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور آج تحریکی شہری دہلی ہو رہے ہیں جبکہ پارلیمان کی طرف مارچ کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے مطابق پولیس کی جانب سے روکے جانے کے باوجود کارکن احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
چند ماہ قبل وجود میں آنے والی اس جماعت کی احتجاجی تحریک اور پارلیمان کی طرف مارچ کو وزیراعظم نریندر مودی کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ جماعت سوشل میڈیا پر لاکھوں حامی رکھتی ہے جبکہ ملک بھر میں سیاسی میدان میں بھی عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
کاکروچ پارٹی کی تحریک اس وقت زور پکڑتی دیکھی گئی جب پولیس نے بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچیک کو ہفتہ کے روز زبردستی ہسپتال منتقل کیا۔
اس کے بعد ان کے حامیوں کے دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر جمع ہونے کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ آج پارلیمان کے اجلاس کے موقع پر مارچ میں شریک ہو سکیں، انتظامیہ کی جانب سے جنتر منتر کے قریبی مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کے علاوہ نیم فوجی دستے بھی تعینات ہیں۔
مظاہرین پارلیمان کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے خدشات بھی ہیں جس سے کشیدگی مزید بڑھنے کا احتمال بھی ہے۔
مظاہرین کی جانب سے نریندر مودی استعفیٰ دو، اور دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو، کے نعرے لگائے جا رہے ہیں جو کہ تالترتیب وزیراعظم اور وزیر تعلیم ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب مئی میں نیشنل میڈیکل کالج کے داخلہ ٹیسٹ کے پرچے لیک ہوئے تھے جس کی وجہ سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے اور ان کو دوبارہ امتحان دینا پڑا تھا۔
دارالحکومت سے قریباً 100 کلومیٹر کی دوری پر واقع شہر میرٹھ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم آدی ناتھن کا کہنا ہے کہ اقتدار میں موجود یہ تمام رہنما ان پڑھ ہیں، اور میں اس لیے احتجاج کرنے آیا ہوں کہ آئندہ پرچے لیک نہ ہوں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کو شروع میں زیادہ تر حمایت سوشل میڈیا پر حاصل ہوئی اور چند روز میں ہی اس کے فولوورز کی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ تک پہنچی، بعدازاں جماعت نے اپنا دائرہ مزید وسیع کیا اور اسے بعض اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی حمایت حاصل ہوئی۔
پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے حامیوں نے پچھلے مہینے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ شروع کیا اور اس کے لیے دھرنا بھی دیا۔
28 جون کو سماجی کارکن سونم وانگیچک بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے اور احتجاج کے مقام پر ہی غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔
انہوں نے ایکس پر ہاتھ سے لکھے گئے پیغام میں کہا کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال تب ختم کریں گے جب حکومت نظام تعلیم میں سامنے آنے والی حالیہ ناکامیوں اور پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرے۔