امریکی صدر کی ایران کیخلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے کی دھمکی

امریکی صدر کی ایران کیخلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کو انٹرویو میں کہا وہ ایک بڑے حملے کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، ممکنہ کارروائی کے نتائج ہوں گے اور اسی لیے فیصلہ احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر چاہوں تو اسرائیل فوری طور پر نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے تاہم ایران کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لئے امریکا کو کسی ملک کی ضرورت نہیں، اگر اسرائیل حملوں میں شریک ہوا تو ایران کی جانب سے جوابی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی کسی معاہدے کے لئے تیار نہیں، ایرانی قیادت نے حالیہ سفارتی تجاویز قبول نہیں کیں کیونکہ ابھی انہیں کافی نقصان نہیں پہنچا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دوبارہ جہازوں پر حملے کئے تو امریکا اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حوثی ایران کے حمایتی گروہ ہیں اس لیے کسی بھی نئی کارروائی کی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔