ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار

ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار

برطانوی اخبار کے مطابق 4 دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی خلیج کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے بڑے فوجی اڈوں کے وسیع نیٹ ورک پر قائم رہی ہے لیکن ایران نے امریکی تنصیبات پر مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ایران کے ساحلوں کے اتنے قریب واقع یہ بڑے فوجی اڈے کس قدر کمزور ہیں۔

ایران نے امریکا کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے فوجیوں اور طیاروں کو ایرانی حملوں کی زد سے باہر اسرائیل، اردن اور دیگر دور دراز مقامات پر منتقل کرے، جنگ کے دوران امریکا نے کچھ افواج اسرائیل اور اردن منتقل کی ہیں، اس کے علاوہ امریکی طیاروں اور ڈرونز نے یورپ میں موجود فوجی اڈوں سے بھی پروازیں کی ہیں۔

اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران ایسے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر زیادہ سرمایہ کاری کرے گا جو اردن اور اسرائیل کو نشانہ بنا سکیں۔

اخبار کے مطابق خلیجی اتحادیوں کے ساتھ امریکا کا تیل کے بدلے سکیورٹی کا معاہدہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بدلتا رہا ہے، بعض خلیجی ممالک اب اپنی سکیورٹی کیلئے امریکا کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔