خلاصہ
- ماسکو:(شاہد گھمن) روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کے پرامن تصفیے کے امکانات اب بھی موجود ہیں، تاہم فی الحال اس کیلئے کوئی ٹھوس پیشگی شرائط سامنے نہیں آئیں۔
دیمتری پیسکوف نے امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے دورہ روس اور یوکرین میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کے منصوبے پر بھی کریملن کا مؤقف بیان کیا۔
مشرقی اقتصادی فورم میں صدر ولادیمیر پوتن کے بیانات کے بعد کسی نئے امن اقدام کے سامنے آنے سے متعلق سوال پر دیمتری پیسکوف نے کہا کہ اس بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے فی الحال پرامن تصفیے کیلئے کوئی مخصوص پیشگی شرائط موجود نہیں ہیں، تاہم اس سلسلے میں کام اور رابطوں کا عمل جاری ہے۔
کریملن کے ترجمان نے کہا کہ امریکی حکام نے اپنی خیرسگالی برقرار رکھی ہے اور وہ ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کیلئے تیار ہیں، دوسری جانب روس بھی تنازع کے حل اور اپنے مقاصد کے حصول کیلئے پرامن ذرائع اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔
دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی فیڈریشن کا وہ مؤقف بھی بدستور غیر متزلزل ہے جس کا اظہار صدر ولادیمیر پوتن نے 2 سال قبل روسی وزارت خارجہ میں کیا تھا، کیف اس مؤقف سے اچھی طرح آگاہ ہے اور یہ تمام عوامل اس بات کی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ پرامن تصفیے کا امکان موجود ہے، اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ فریقین پرامن حل کی جانب پیشرفت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے دورہ روس سے متعلق دیمتری پیسکوف نے کہا کہ کریملن روسی حکام کے ساتھ دونوں امریکی نمائندوں کے رابطے ہونے کے بعد اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پیشگی طور پر کسی چیز کا اعلان نہیں کریں گے، تاہم جب یہ رابطے ہوں گے تو اس کی اطلاع دے دی جائے گی، وٹکوف اور کشنر کے دورے سے قبل یوکرینی دہشت گرد حملوں کو رکوانے کیلئے ماسکو اور کیف کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔
دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ممکنہ طور پر امریکی حکام یوکرین سے مطالبہ کریں گے کہ وہ وٹکوف اور کشنر کے دورہ روس سے قبل اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں بند کرے۔
یوکرین میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری شروع کرنے کے منصوبے پر روسی صدارتی ترجمان نے کہا کہ ماسکو نے ان منصوبوں کے بارے میں اطلاعات سنی ہیں اور روس ان معلومات کی محتاط نگرانی اور تصدیق کر رہا ہے۔
دیمتری پیسکوف کے مطابق یوکرین کی سرزمین پر قائم فوجی بنیادی ڈھانچے کی کوئی بھی تنصیب روسی مسلح افواج کیلئے جائز ہدف بن جائے گی، یوکرین کو عسکری بنانے کے ایسے اقدامات، جن میں اس کی سرزمین پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کی تنصیبات کا قیام بھی شامل ہے، خود یوکرینی عوام کیلئے ایک اور مسئلہ بن جائیں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل مشرقی اقتصادی فورم کے مرکزی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ روس اس مسئلے کے حل میں مدد کیلئے کام کرنے والے تمام فریقوں کا شکر گزار ہے، تنازع کے پرامن تصفیے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔