خلاصہ
- نیویارک: (ویب ڈیسک) اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے کہا ہے کہ حوثیوں اور یمنی حکومت اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 76 ہزار افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ میں یمن کے تنازعے کو ایک ایسے بحران سے تعبیر کیا گیا ہے جو تیزی سے بگڑ رہا ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید پھیلتا اختیار کرتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چند روز قبل بے گھر ہونے والوں کی تعداد46 ہزار تھی، جو اب بڑھ کر 76 ہزار ہو چکی ہے، یہ تعداد مختصر عرصے میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے، جبکہ لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ یہ اعداد و شمار گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں چار گنا تک بڑھ گئے ہیں۔
ادارے کی سربراہ ایمی پوپ کے مطابق یمن کے مغربی ساحلی علاقے اور جنوبی تعز کے محاذوں پر لڑائی تیزی سے بڑھ رہی ہے، تعز سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے، جہاں آٹھ ہزار 300 خاندان، یعنی تقریباً 50 ہزار افراد، اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی بڑی تعداد جبل حبشی، المعافر، مقبنہ، موزع اور الوزعیہ سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔