غزہ کے 20 ہزار شہید بچوں کے ناموں پر مبنی 100 میٹر طویل کفن کی نمائش

غزہ کے 20 ہزار شہید بچوں کے ناموں پر مبنی 100 میٹر طویل کفن کی نمائش

’تعداد نہیں نام‘ کے عنوان سے پیش کیے گئے اس منصوبے کا مقصد جنگ میں شہید ہونے والے بچوں کو محض اعداد و شمار کے بجائے ان کی انفرادی شناخت اور ناموں کے ساتھ یاد کرنا ہے، منتظمین نے اس اقدام کے ذریعے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور مبینہ جنگی جرائم کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

غزہ چلڈرنز شراوڈ کے نام سے یہ یادگاری منصوبہ ڈاکٹرز اگینسٹ جینوسائیڈ، یو ایس اے پریٹس اگینسٹ جینوسائیڈ، جسٹس فار آل اور دیگر شراکت دار تنظیموں نے تیار کیا ہے، تقریب میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی قرآن پاک کی تلاوت بھی کی گئی اور غزہ کے بچوں کی یاد میں بین المذاہب اجتماع منعقد ہوا۔

اس منصوبے کی تحریک اٹلی میں تیار کیے گئے ایک یادگاری کفن سے ملی جہاں غزہ میں اپنے بچوں کی لاشوں کی شناخت یقینی بنانے کے لیے بعض والدین کی جانب سے بچوں کے نام جسم پر لکھنے کے المناک عمل کو یادگار کی شکل دی گئی، منتظمین کا کہنا ہے کہ کفن پر نام لکھنے کا مقصد بچوں کو جنگ کے اعداد و شمار میں گم ہونے سے بچانا ہے۔

یہ یادگاری کفن یکم ستمبر کو فلاڈیلفیا سٹی ہال سے اپنے سفر کا آغاز کرچکا ہے جبکہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسے پیش کیا گیا، منصوبے کے تحت اسے آئندہ مختلف شہروں میں لے جایا جائے گا اور ایک سال تک جاری رہنے والی عالمی مہم کے دوران ہر ماہ ایک نئے شہر میں نمائش اور دعائیہ و آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران بچوں سمیت بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے حالیہ ملبے سے لاشوں کی برآمدگی پر ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے رسائی دینے پر زور دیا ہے۔

منتظمین کے مطابق اس کفن پر درج ہر نام ایک بچے کی زندگی، شناخت اور خاندان کی یاد کی علامت ہے، تاکہ غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کو محض ایک عدد کے طور پر نہیں بلکہ نام اور شناخت رکھنے والے انسانوں کے طور پر یاد رکھا جائے۔