لاہور ہائیکورٹ نے کرکٹر محمد رضوان کی درخواست خارج کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے کرکٹر محمد رضوان کی درخواست خارج کر دی

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی درخواست پر سماعت کی، محمد رضوان کی جانب سے وکیل قاضی عمیر علی پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ محمد رضوان قانون کا تابع اور باعزت شہری ہے جس نے اپنی اہلیت کے مطابق پاکستان کرکٹ میں سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دی۔

وکیل نے کہا کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد درخواست گزار کو ہوٹل لابی میں بلوایا گیا جہاں حکومتی ایجنسی کا ایک افسر موجود تھا، جس نے بغیر کسی نوٹس کے درخواست گزار سے تفتیش کی اور موبائل قبضے میں لے لیا۔ درخواست گزار نے اس یقین دہانی پر موبائل فون دیا کہ تین گھنٹے کے بعد موبائل واپس کیا جائے گا تاہم آج کی تاریخ تک موبائل فون واپس نہیں کیا گیا جو بددیانتی کو ظاہر کرتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے نے محمد رضوان کو طلبی کے نوٹس جاری کئے جو بوگس اور غیر قانونی اور دائر اختیار سے باہر ہے، نوٹس درخواست گزار کو مجرمانہ عزائم کی تکمیل کے کئے بلیک میل کرنے کیلئے جاری کیا گیا، دس ستمبر کو این سی سی آئی اے میں پیش ہوئے اور مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔

این سی سی آئی اے نے محمد رضوان پر کرکٹ کے کھیل میں محمد رضوان پر آن لائن بیٹنگ، جواء کے الزامات لگائے جو کہ بے بنیاد ہیں۔

محمد رضوان نے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کرکٹر کو کرپشن سے بچانے کیلئے آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ فورم ہے، درخواست گزار کے خلاف معاملہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو نہیں بھیجوایا گیا۔

دوران سماعت محمد رضوان کے وکیل کے پاس کیس کی فائل نہ ہونے پر چیف جسٹس نے اظہار ناراضگی کیا اور کہا کہ یہ بہت ہی غیر مناسب رویہ ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ محمد رضوان کو بیٹنگ سے متعلق نوٹسز بھجوائے گئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جا کر نوٹس کا جواب دیں عدالت کیا لینے آئے ہیں، آپ کو دس ستمبر کو نوٹس جاری ہوا جس کی آپ نے تکمیل کر دی ہے جائیں جا کر سوالات کے جواب دیں، عدالت نے محمد رضوان کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محمد رضوان کے وکیل کا کہنا تھا کہ رضوان کے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے ہم اس لیے عدالت آئے ہیں کہ ہمیں پتہ چل سکے کہ کس چیز کی تفتیش ہو رہی ہے۔