خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) ایران جنگ نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں نیا بحران پیدا کر دیا، خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی قلت پیدا ہوگئی۔
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند ہونے سے خام تیل کی بڑی مقدار ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی طرف منتقل ہو گئی جس نے دباؤ کا شکار آئل ٹینکرز پر مزید بوجھ ڈال دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے اثرات دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد طویل سفر اور شٹل سروس میں بحری جہازوں کے مصروف ہونے سے آئل ٹینکرز کے کرائے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
وال سٹریٹ جنرل کے مطابق خام تیل لے جانے والے سپر ٹینکرز کی دستیابی میں کمی نے تیل ترسیل کی لاگت کو بلند ترین سطح تک پہنچا دیا، خلیج فارس کے اندر سے تیل لوڈ کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لئے سپر ٹینکر کا کرایہ 10 لاکھ ڈالر یومیہ سے تجاوز کر گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ لاگت 26 ڈالر فی بیرل یا خام تیل کی کل مالیت کا ایک چوتھائی بنتی ہے، عام حالات میں شپنگ کے اخراجات تیل کی مالیت کا معمولی حصہ ہوتے ہیں۔
امریکی اخبارکے مطابق ٹینکرز کی یہ قلت صرف مشرق وسطی تک محدود نہیں رہی بلکہ مغربی افریقا سے چین جیسے دنیا بھر کے دیگر روٹس پر بھی کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر سپر ٹینکر کی اوسط یومیہ کمائی 6 لاکھ 51 ہزار ڈالر سے زائد ہوگئی جو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند ہونے سے ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں دگنی ہے، حملوں کے پیش نظر بحری جہازوں نے باب المندب سے گزرنا بند کر دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سعودی بحری جہاز جنوبی افریقا میں کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل متبادل راستے سے سفر کر رہے ہیں جس سے فی جہاز 10 لاکھ ڈالر کا اضافی خرچ آ رہا ہے۔