خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں بالکل بے بنیاد اور غلط ہیں کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے فوجی قیادت کے لیے لینیج 1000 (Lineage-1000) جیسا نیا پرتعیش ایگزیکٹو جیٹ خریدنے کے لیے 1.094 ارب روپے منظور کئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منظور شدہ 1.094 ارب روپے کی یہ رقم کسی نئے جہاز کی خریداری کے لیے نہیں بلکہ وزیراعظم کے استعمال میں پہلے سے موجود طیارے کی دیکھ بھال (maintenance)، اوور ہالنگ اور لاجسٹکس کے لیے مختص کی گئی ہے، جس کی ذمہ داری وزارتِ دفاع کے پاس ہے۔
مالیاتی اعداد و شمار بھی نئے جہاز کی خریداری کی افواہوں کی نفی کرتے ہیں، لینیج 1000 جیسے بڑے اور جدید بزنس جیٹ کی اصل قیمت کروڑوں ڈالر (تقریباً 2.5 سے 5 کروڑ امریکی ڈالر، یعنی 7 سے 14 ارب پاکستانی روپے) ہوتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق منظور کی گئی 1.094 ارب روپے (تقریباً 39 لاکھ امریکی ڈالر) کی رقم اتنے بڑے جہاز کی خرید کے مقابلے میں بہت کم ہے اور یہ رقم صرف موجودہ سرکاری وی آئی پی طیارے کی معمول کی مرمت، انجن اور دیگر ضروری معائنے پر ہی خرچ ہوتی ہے۔
حکومتی اثاثوں کی دیکھ بھال کے لیے ای سی سی کی جانب سے فنڈز کی منظوری ایک معمول کا انتظامی طریقہ کار ہے، اس لیے مرمت اور دیکھ بھال کے اس خرچ کو فوجی سربراہان کے لیے نئے پرتعیش طیارے کی خریداری سے جوڑنا حقیقت کے بالکل برعکس اور گمراہ کن ہے۔