خلاصہ
- ماسکو: (شاہد گھمن) روس کی وفاقی سکیورٹی سروس، ایف ایس بی، نے جاپانی اخبار ہوکائیدو شمبن کے نمائندے کو مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرکے ماسکو منتقل کر دیا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹوکیو روسی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے صحافیوں کو معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کررہا ہے۔
ایف ایس بی کے مطابق ملزم روس کے مشرق بعید میں واقع شہر یوزنو سخالنسک میں جاپانی اخبار ہوکائیدو شمبن کے نمائندے کے طور پر کام کررہا تھا۔
روسی سکیورٹی ادارے نے بتایا کہ جاپانی شہری کو روس سے روانگی سے قبل سخالین ریجن میں حراست میں لیا گیا، جس کے بعد اسے ماسکو منتقل کردیا گیا۔
ایف ایس بی کے تحقیقاتی شعبے نے جاپانی شہری کے خلاف روسی فوجداری قانون کی دفعہ 276 کے تحت جاسوسی کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ماسکو کی لیفورتوو ڈسٹرکٹ عدالت نے ملزم کو زیر حراست رکھنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ ایف ایس بی کے مطابق مقدمے کی مزید تحقیقات اور متعلقہ آپریشنل کارروائیاں جاری ہیں۔
اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا کہ ٹوکیو کی جانب سے روس میں غیر ملکی صحافی کا درجہ رکھنے والے اپنے نمائندوں کو معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں افسوس ناک ہیں۔
ماریہ زخارووا کے مطابق ایسی معلومات کا مقصد روسی ریاست کی سلامتی کو نقصان پہنچانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی صحافی سے متعلق حالیہ واقعہ کوئی الگ تھلگ معاملہ نہیں ہے۔
روسی حکام نے گرفتار جاپانی صحافی کی شناخت اور اس کی مبینہ سرگرمیوں سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں۔ جاپانی حکومت اور اخبار ہوکائیدو شمبن کی جانب سے بھی اس معاملے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔