حملہ کرکے بچ نکلنے کا دور ختم ہوچکا، جارحیت کا بھرپور جواب دینگے: ایران

حملہ کرکے بچ نکلنے کا دور ختم ہوچکا، جارحیت کا بھرپور جواب دینگے: ایران

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں معاہدوں اور وعدوں کی خلاف ورزی اعتماد کے فقدان کی بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود ایران سفارتی کوششوں سے دستبردار نہیں ہوا اور مذاکرات کو اہمیت دیتا ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور ان کے لیے ٹھوس ضمانتیں ضروری ہیں۔ امریکا کو اپنے کردار سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

ایرانی ترجمان کے مطابق ایران پہلے بھی عملی طور پر ثابت کرچکا ہے کہ کسی حملہ آور کو جواب دیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا، بلکہ ضرورت پڑنے پر اس سے زیادہ سخت ردعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے سفارتی پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکی مطالبات ہیں۔ ایران نے اپنے تحفظات اور شرائط قطر کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی ہیں، تاہم امریکی جواب ناکافی ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق ایران کی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ بھی پیش کیا ہے، تاہم اس پر پیش رفت کے لیے امریکا کو اپنی شرائط میں لچک دکھانا ہوگی۔

انہوں نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے حالیہ دورۂ تہران کے بارے میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ معمول کی مشاورت کا حصہ تھا اور اس دوران جوہری مذاکرات نہیں ہوئے۔