خلاصہ
- ماسکو: (شاہد گھمن) کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس کو امید ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کاروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان جلد ملاقات ہوگی۔
منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو توقع کرتا ہے کہ امریکی مذاکرات کار صدر پوتن کو یوکرینی اور یورپی حکام کے ساتھ ہونے والی اپنی مشاورت سے آگاہ کریں گے اور واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان متعدد اہم معاملات پر رابطوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
پیسکوف نے کہا کہ روس امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ صدر پوتن کی ملاقاتوں کو ہمیشہ انتہائی اہم، بروقت اور بامقصد سمجھتا ہے اور ان کی ثالثی کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ملاقات کی تاریخ اور مقام طے ہونے کے بعد صحافیوں کو آگاہ کر دیا جائے گا۔
یوکرین تنازع کے حل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس کے لیے یہ ضروری ہے کہ امن مذاکرات میں یوکرینی حکام کا ایسا نمائندہ شریک ہو جو قانونی حیثیت رکھتا ہو اور جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری فیصلے کرنے اور ان کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔
جوہری تخفیف اسلحہ اور اسٹریٹجک استحکام کے معاملے پر دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس متعدد مرتبہ مختلف سطحوں پر ان موضوعات پر مذاکرات فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت پر زور دے چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طویل عرصے بعد دنیا پہلی مرتبہ ایسی صورتحال سے دوچار ہے جہاں اسٹریٹجک استحکام اور جوہری تخفیف اسلحہ کے شعبے میں مؤثر قانونی فریم ورک موجود نہیں، جو انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔
پیسکوف کے مطابق اسٹریٹجک استحکام اور جوہری تخفیف اسلحہ پر مذاکرات پیچیدہ اور طویل ہوں گے، اس لیے ان کا آغاز جلد کرنا ضروری ہے۔
روسی صدارتی ترجمان نے کہا کہ ماسکو سمجھتا ہے کہ ان معاملات پر امریکہ کے ساتھ بات چیت روس کو ہی کرنی چاہیے، تاہم روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں یورپی ممالک، خصوصاً برطانیہ اور فرانس کی جوہری صلاحیتوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
خیرسون ریجن کے قصبے الیوشکی میں انسانی بحران سے متعلق دمتری پیسکوف نے بتایا کہ صورتحال کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں، ان کے مطابق اس مسئلے پر پوپ کے ساتھ گفتگو میں بھی بات ہوئی تھی، جبکہ صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطے میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا۔
پیسکوف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ روسی انسانی حقوق کی کمشنر یانا لانتراٹووا اس معاملے پر اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔
امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنے والے آئل ٹینکروں سے متعلق اقدامات کے بارے میں سوال پر کریملن کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملے کی وضاحت امریکی محکمہ توانائی سے طلب کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ روس عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ماضی میں بھی قابل اعتماد سپلائر رہا ہے، آج بھی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا، آرکٹک خطے کی صورتحال پر دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس سمجھتا ہے کہ آرکٹک کو محاذ آرائی کے بجائے ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کا خطہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے مذاکرات ضروری ہیں اور روس بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم یورپی ممالک اس حوالے سے رابطوں سے گریز کر رہے ہیں، پیسکوف نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ روس کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی مخالفت کر چکی ہیں۔