اردن کے چرچ میں فائرنگ، 7 افراد ہلاک، پاکستان کی جانب سے حملے کی شدید مذمت

اردن کے چرچ میں  فائرنگ، 7 افراد ہلاک، پاکستان کی جانب سے حملے کی شدید مذمت

خبر ایجنسی کے مطابق دو مسلح افراد گاڑی میں آئے اور چرچ میں موجود شرکا پر فائرنگ کردی، حملہ آوروں نے تقریباً 5 منٹ تک رائفل اور پستول سے فائرنگ کی۔

فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے، اردن پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

عینی شاہد کے مطابق فائرنگ کے وقت چرچ کے اندر اور اطراف میں 150 سے 200 افراد موجود تھے، جبکہ بیشتر متاثرین کی عمریں 50 سے 70 سال کے درمیان تھیں۔

وزیر مملکت برائے حکومتی مواصلات محمد المومنی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

کرک مسلمان اکثریتی اردن میں مسیحی برادری کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں وہ لمحہ محفوظ ہوگیا جب مسلح حملہ آوروں نے چرچ کے داخلی دروازے پر حملہ کیا، فوٹیج میں دو حملہ آور پستول استعمال کرتے دکھائی دیے، جبکہ تیسرے کے پاس رائفل تھی اور اس نے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے عزم ظاہر کیا کہ اس حملے کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔

پاکستان کی جانب سے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اردن کے علاقے کرک میں ایک چرچ میں جنازے کے جلوس کے دوران ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اردن کی برادر مملکت کی حکومت اور عوام، بالخصوص جاں بحق ہونے والوں کے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے، پاکستان زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے برادر عوام کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور دہشت گردی کی تمام اقسام اور مظاہر کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔