پی ٹی آئی دور میں بجلی کی قیمتیں آسمان پر پہنچیں: اویس لغاری کا دعویٰ

پی ٹی آئی دور میں بجلی کی قیمتیں آسمان پر پہنچیں: اویس لغاری کا دعویٰ

وفاقی دارالحکومت میں سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی نہیں ہے، یہ ریگولیشن میں تبدیلی آئی ہے، حکومت پاکستان اور وزارت نے عوام اور متعلقہ تمام لوگوں کو دس بارہ مہینے پہلے ان بورڈ لینا شروع کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ سولر ایسوسی ایشن نے بھی ہمیں اس حوالے سے کہا کہ یہ ضروری ہے یہ کئے بغیر عوام کے مفاد کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا، نیپرا کا کام ہی یہی ہے کہ وہ ناحق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو روکے، ریگولیٹر نے اس پر ایک شق کو بھی نہیں چھیڑا۔

وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھاکہ ڈالر کا ریٹ عمران خان کے دور میں گرنا شروع ہوا،اس وقت بجلی کا ریٹ آسمان تک پہنچ گیا تھا، ہم نے بجلی کی قیمتیں سنبھالنے کی کوشش کی 2017,18 میں نیٹ میٹرنگ اپنی وزارت کے دور میں اُس وقت کی دور حکومت میں منظور کرایا تھا۔

اویس لغاری نے کہا کہ 2025 میں پچپن فیصد گرین انرجی کو حاصل کر چکے ہیں ، ہمارے ریفارمز بہترین ٹریک کے اوپر ہیں، ورلڈ بینک سمیت ہر ادارہ شہباز شریف کی حکومت کے اقدامات کی تعریف کر رہا ہے،ہم نے آئی پی پی پیز کو سنبھالا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سال 2023 تک مجموعی بجلی پیداوار کا 60 فیصد گرین انرجی ہوگا، حکومتی اقدامات کے زریعے بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوئی، حکومتی اقدامات سے بجلی شعبے میں بہتری آ رہی ہے،ہم نے 586ارب روپے کا نقصان کم کر کے 397 ارب روپے پر لے آئے۔

وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اگلے سال تک ہم یہ نقصان بھی ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،میں خود 11 کے وی کا سولر گرڈ چلا رہا ہوں، مجھے پتا ہے کہ ان کو ریگولر کرنے کا فائدہ عام آدمی کو پہنچے گا ،جو لوگ تنقید کر رہے ہیں ان کو مکمل صورتِ حال کا علم نہیں ہے۔

اویس لغاری کا مزید کہنا تھا کہ آج سے تین سال بعد بجلی کے ریٹس پر اپنا سر شرمندگی سے نیچے کر کے جواب نہیں دینا پڑے گا ،ہم نے سولر سسٹم کے ذریعے مزید 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش رکھی ہے۔