سیہون: خسرہ بچاؤ ویکسین لگانے والی ٹیم پر حملے میں لیڈی ہیلتھ ورکر زخمی

Published On 29 November,2025 06:52 pm

سیہون:(دنیا نیوز) اندرون سندھ کے علاقے سیہون میں خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین لگانے والی محکمۂ صحت کی ٹیم پر حملہ میں ہیلتھ ورکر خاتون زخمی ہو گئی۔

ذرائع کے مطابق واقعہ گاؤں واھڑ میں پیش آیا جہاں خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین لگانے والی ٹیم پر حملہ کیا گیا اور ہیلتھ ورکر خاتون پر شدید تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئی۔

دوسری جانب متاثرہ ورکرز پری گنپیر کا کہنا تھا کہ گھر میں معصوم بچے کو خسرہ کے ٹیکے لگا رہے تھے کہ اچانک حملہ ہوگیا، خسرہ کے ٹیکے لگانے پر نیاز پنہور نے حملہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور لہولہان کرکے فرار ہوگیا۔

پری گنپیر نے بتایا کہ حملے کے دوران ویکسین کیئر، انجکشن، سیفٹی بکس پھینک کر مجھ پر حملہ کیا گیا اور شدید تشدد کرکے بےہوشی کی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگیا،آخر ہمارا خواتین کا قصور کیا ہے؟ معصوم بچوں کو قطرے پلانے اور ٹیکے لگانے کے دوران ہم پر حملے کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

متاثرہ خاتون نے کا کہنا تھا کہ ہم ہیلتھ ورکرز اور خسرہ ویکسین لگانے والی ٹیم غیر محفوظ ہیں، پہلے بھی حملہ ہوا لیکن کوئی تدارک نہیں کیا گیا، حملہ کرنے والا ملزم گرفتار نہ ہوا تو پولیو مہم، خسرہ سے بچاؤ کی مہم سمیت ہسپتالوں کا بائیکاٹ کریں گے اور تالا بندی کریں گے۔

اُنہوں نے اپیل کی حملہ کرنے والے ملزم نیاز پنہور کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جائے۔