تازہ ترین
  • بریکنگ :- دنیابھرمیں 24 کروڑ 32 لاکھ 73 ہزار 624 افرادکوروناسےمتاثر
  • بریکنگ :- دنیابھرمیں کوروناسےہلاکتوں کی تعداد 49 لاکھ 45 ہزار 287 ہوگئی
  • بریکنگ :- دنیا بھرمیں 22 کروڑ 4 لاکھ 70 ہزار 228 مریض صحت یاب

حکومت کو شوبز میں ہمیں ایک ڈریس کوڈ دینا چاہیے: وینا ملک

Published On 16 September,2021 05:16 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) ایک عرصے کے بعد شوبز انڈسٹری میں واپس آنے والی اداکارہ وینا ملک نے کہا ہے کہ پاکستان آزاد ملک ہے۔ میرا خیال ہے شوبز میں ہمارا ڈریس کوڈ ہونا چاہئے اور حکومت کو ہمیں ایک ڈریس کوڈ دینا چاہئے کہ آپ کو (فنکاروں کو) ان حدود کے اندر رہنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وینا ملک تقریباً 12 سال بعد ایک بار پھر سیاسی طنزومزاح پر مبنی شو میں واپسی کررہی ہیں۔ اس سے قبل وہ نجی ٹی وی چینل کے مقبول طنزو مزاح پر مبنی مزاحیہ سیاسی شو سے وابستہ تھیں جس میں ان کی اداکاری کو بے حد پسند کیاجاتا تھا۔ وینا ملک کا نیا شو اردو فلکس پر نشر کیاجائے گا۔

جرمن سرکاری میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان کی معروف اداکارہ وینا ملک نے افغانستان میں طالبان، خواتین کے لباس سمیت مختلف اہم امورپر تبادلہ خیال کیا۔

انٹرویو کے دوران میزبان نے اداکارہ سے پوچھا افغانستان میں طالبان حکومت کے قبضے کی آپ نے حمایت کرتے ہوئے کہا طالبان کو افغان مبارک ہو۔اس سوال کے جواب میں میزبان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے کہا طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا جبکہ طالبان نے افغانستان میں حکومت بنائی ہے اور مجھے لگتا ہے افغانستان طالبان کا ہی ہے۔ یہ انکی زمین ہے انکی جگہ ہے جس کے لیے انہوں نے اتنی لمبی جنگ لڑی ہے۔

افغانستان جانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے افغانستان کا صوبہ قندھار بہت پسند ہے، وہاں جاکر بہت اچھا لگے گا، جہاں تک بات ہے برقع پہننے کی تو برقع میری زندگی کا حصہ ہے۔ 13 سال کی عمر سے برقع پہن رہی ہوں۔ آج بھی جب باہر جاتی ہوں تو پہنتی ہوں۔ یہ میری چوائس ہے کیونکہ ایسے میں خود کو محفوظ سمجھتی ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں وینا ملک نے کہا کہ پاکستان آزاد ملک ہے۔ ہمارے ملک میں لوگ ہر طرح کے کپڑے پہن رہے ہیں، لڑکیوں کو بھی ہر طرح کا لباس پہننے کی آزادی ہے بلکہ میرا خیال ہے کہ شوبز میں ہمارا ڈریس کوڈ ہونا چاہئے اور حکومت کو ہمیں ایک ڈریس کوڈ دینا چاہئے کہ فنکاروں کو ان حدود کے اندر رہنا ہے۔

وینا ملک نے کہا مجھے تو فکر اُن انڈسٹریز کی ہے جہاں کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں ہے جہاں فنکار کچھ بھی پہنتے ہیں اور مجھے یہ خوفناک لگتا ہے۔ لہذا میں سمجھتی ہوں کہ انسان کو کہیں نہ کہیں ایک لائن کھینچنی چاہئے۔