اسلام آباد: (دنیا نیوز) پھیپھڑوں کی جگہ جگر کی بائیوپسی سے خاتون مریِضہ کی وفات کا معاملہ، ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے پمز ہسپتال سے جواب طلب کرلیا۔
ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے پمز ہسپتال اور ایچ او ڈی پلمونولوجی ڈاکٹر اسرار سے 7 روز میں جواب طلب کیا ہے۔
آئی ایچ آر اے نے مریِضہ عابدہ پروین کا میڈیکل ریکارڈ بھی پمز ہسپتال سے طلب کرلیا، آئی ایچ آر اے نے پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو نوٹس ارسال کردیا۔
واضح رہے کہ آزادکشمیر ڈڈیال سے تعلق رکھنے والی خاتون مریِضہ عابدہ پروین پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا تھی، مریِضہ کو 9 دسمبر کو پمز ہسپتال کے پلمونولوجی ڈیپارٹمنٹ میں داخل کیا گیا تھا۔
ایچ او ڈی پلمونولوجی ڈاکٹر محمد اسرار نے پھیپھڑوں کی بائیوپسی کا فیصلہ کیا تھا لیکن 16 دسمبر کو پمز ہسپتال میں لنگز کے بجائے جگر کی بائیوپسی کی گئی، بائیوپسی کے چند گھنٹے بعد خاتون مریِضہ کی ہسپتال میں ہلاکت ہوئی۔
بائیوپسی رپورٹ میں حیران کن انکشاف ہوا، پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں نے پھیپھڑوں کے بجائے مریِضہ کے جگر کا ٹشو نکالا تھا۔
بائیوپسی رپورٹ ملنے پر لواحقین نے اسلام آباد ہیلتھ کئیر ریگولیٹری اتھارٹی کو درخواست دی، لواحقین نے ایچ او ڈی پلمونولوجی ڈاکٹر محمد اسرار، ڈاکٹر ہارون اشرف خان کو ذمہ دار قرار دیا۔



