تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ

Published On 08 January,2026 12:18 pm

اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) ملک میں سیاسی استحکام کیلئے حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کے بعد کئی اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں مگر اس کے باوجود مذاکراتی عمل تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے دسمبر کے آخری ہفتے میں اعلان کیا تھا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف چاہے تو حکومت مذاکرات کے لئے تیار ہے مگر مذاکرات کے نام پر کسی قسم کی بلیک میلنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی غیر قانونی اقدام کو برداشت کیا جائے گا، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بات چیت صرف آئینی اور قانونی امور تک محدود ہوگی۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے، انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی بھی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، حکومت اس بات پر بھی واضح مؤقف رکھتی ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اعتماد سازی کیلئے ایک اور تجویز دی تھی جس کے مطابق صدرمملکت، وزیر اعظم، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور بانی پی ٹی آئی سمیت پانچ بڑوں کو مل بیٹھنا چاہیے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس تجویز پر پاکستان پیپلزپارٹی بھی متفق ہے، وزیر اعظم کی مذاکراتی پیشکش اور رانا ثنا اللہ کی پانچ بڑوں کے بیٹھنے کی تجویز کے بعد ملک میں مذاکرات کے متعلق چہ مگوئیاں تیز ہوگئیں تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذاکرات واقعی شروع ہو پائیں گے اور اگر ہوئے تو کیا کامیاب بھی ہوں گے؟

9 مئی 2023ء کے واقعات کے بعد پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے والے بعض رہنماؤں نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی قائم کی، جن میں فواد چودھری، عمران اسماعیل اور دیگر شامل ہیں، اس کمیٹی نے تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی مگر تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی نے اس دعوت پر توجہ نہیں دی۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی دعوت پر اسلام آباد میں گزشتہ روز ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا جس میں سیاسی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں اور مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تاہم اصل فریق یعنی حکومت اور پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا، اس کے باوجود اس اجلاس کو اس لئے اہمیت دی جا رہی ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں کم از کم بات چیت کا ماحول پیدا کرنے کی ایک کوشش ضرور کی گئی، اجلاس کے اعلامیے میں تجویز دی گئی کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے نمائندوں پر مشتمل الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دیں جن کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

اعلامیے کے مطابق صدرمملکت، میاں نواز شریف اور وزیر اعظم شہبازشریف حکومت کی طرف سے مذاکرات کریں گے جبکہ حکومتی کمیٹی کے اعلان کے بعد نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی جیل میں اپوزیشن کی سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد اپوزیشن کمیٹی کے ناموں کا اعلان کرے گی۔

اعلامیے میں اعتماد سازی کیلئے سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے، آئین اور قانون کے دائرے میں مکمل سیاسی آزادی یقینی بنانے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری، حکومت اپوزیشن کی جانب سے افواجِ پاکستان کو سیاست کیلئے استعمال نہ کرنے، بشریٰ بی بی اور یاسمین راشد سمیت خواتین کارکنوں کی رہائی اور علاج کی سہولیات اور سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیر اعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کو اپنے چیمبر میں آنے کی دعوت دی تاہم پارلیمانی حکام کے مطابق سپیکر کی پیشکش کے باوجود اپوزیشن نے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا، دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات صرف منتخب نمائندوں سے ہوں گے، غیر منتخب افراد سے بات چیت نہیں کی جائے گی۔

سپیکر آفس کے مطابق پارلیمانی کمیٹی بدستور برقرار ہے اور اپوزیشن کے آمادہ ہوتے ہی اس کا اجلاس بلا لیا جائے گا، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف خود مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ نہیں اور کنفیوژن کا شکار ہے، حکومت اور اس کے اتحادی واضح طور پر مذاکرات کے حامی ہیں۔

وزیراعظم کی دعوت، سپیکر چیمبر کی پیشرفت، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کوششوں اور رانا ثنا اللہ کی پانچ بڑوں کے بیٹھنے کی تجویز کے باوجود تحریکِ انصاف کے ساتھ مذاکراتی عمل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے، اس کی بڑی وجہ پاکستان تحریک انصاف کا طرزِ عمل ہے، جو اس عمل کو کامیاب ہوتا نظر نہیں آنے دیتا، تحریک انصاف شروع ہی سے حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے مقتدرہ کے ساتھ براہ راست بات چیت کی خواہاں رہی ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ واضح کر چکی ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے بات کرنی ہے تو وہ حکومت کے ساتھ کرے کیونکہ یہ ایک سیاسی عمل ہے، اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کے ساتھ براہ راست بات چیت کا کبھی کوئی گرین سگنل نہیں دیا گیا۔

ایک طرف تحریک انصاف مقتدرہ سے براہ راست رابطے کی خواہشمند ہے تو دوسری جانب اس کا سوشل میڈیا ونگ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی سے باز نہیں آتا، بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کی جانے والی ٹویٹس اور پوسٹس کے بعد صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے یہاں تک کہ بانی پی ٹی آئی کو گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اپنی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور قانونی ٹیم سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں مل سکی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور ان کی کابینہ کے بعض اراکین کے ملکی سلامتی سے متعلق بیانات نے بھی صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کر دیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی حالیہ پریس کانفرنس بھی اس حوالے سے صورتحال کو واضح کر رہی ہے، حکومت کی جانب سے یہ شرط کہ مذاکرات میں عام انتخابات پر بات نہیں ہوگی، مذاکراتی عمل کے آغاز اور کامیابی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، اگر بانی پی ٹی آئی کو موجودہ حکومتی سیٹ اَپ تسلیم کرتے ہوئے صرف اپنی باری کا انتظار کرنا ہے تو اس مذاکراتی عمل سے انہیں جیل سے رہائی کے علاوہ کیا حاصل ہوگا؟ اور اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔