لاہور: (ویب ڈیسک) ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ڈی کونجیسٹنٹ نیزل سپرے (ناک کے سپرے) کے بہت زیادہ استعمال سے ناک میں موجود سانس کی نالیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق سے یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً 60 فیصد افراد اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ اس سپرے کو طویل مدت تک استعمال نہیں کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے وہ خطرناک حد تک ری باؤنڈ کنجیشن (دوبارہ شدید ناک بند ہونا) کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے رائل فارماسیوٹیکل سوسائٹی نے کہا کہ اس کا طویل استعمال ناک میں موجود حساس خون کی نالیوں میں سوزش پیدا کر سکتا ہے، جبکہ یہ ناک میں رکاوٹ کو مزید بڑھاتی ہے جس کے نتیجے میں مریض کو سانس لینے کیلئے دوا اور علاج پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
اس کیفیت کو طبی زبان میں رائٹائٹس میڈیسیمنٹوزا کہا جاتا ہے اور یہ ناک کے سپرے کو زیادہ استعمال کرنے والے کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے جلن، نزلہ، چھینکیں اور ناک بند ہونا جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، کچھ مریضوں کو مسلسل سوجن کے مسائل سے نجات کیلئے سرجری کروانی پڑتی ہے۔



