خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے موجودہ فارمولے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈریپ کو قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار ازسرِنو مرتب کرنے کی ہدایت کردی۔
سینیٹر احد چیمہ کی زیر صدارت ادویات کی قیمتوں سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈشپ پالیسی، درآمد کنندگان و ریٹیلرز کے مارجنز اور ڈریپ پالیسی بورڈ کی تشکیل سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے موجودہ فارمولے پر جامع نظرثانی کی ضرورت ہے، انہوں نے ڈریپ حکام کو ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا موجودہ فارمولہ ازسرِنو مرتب کیا جائے تاکہ قیمتوں کے تعین کا نظام زیادہ شفاف، متوازن اور عوامی مفاد کے مطابق بنایا جاسکے۔
احد چیمہ نے ہارڈشپ پالیسی کے قواعد میں بھی فوری تبدیلی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کے تحت ریلیف صرف حقیقی اور ناگزیر کیسز میں ملنا چاہیے۔ حکومتی ریلیف کا فائدہ ادویات کی قیمتوں میں بھی نظر آنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ٹیکس رعایت یا دیگر حکومتی ریلیف لینے کے بعد تمام اضافی لاگت صارفین پر منتقل کرنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے نئے ہارڈشپ رولز میں درآمد کنندگان اور ریٹیلرز کے مارجنز کو معقول بنانے کا طریقہ کار شامل کرنے کی ہدایت بھی کی۔
احد چیمہ نے متعلقہ کیسز میں تقریباً 40 فیصد تک موجود مارجنز کو معقول بنانے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سیکریٹری صحت اور سی ای او ڈریپ کو ہارڈشپ پالیسی کے نظرثانی شدہ قواعد جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر نے ڈریپ پالیسی بورڈ کی تشکیل میں تبدیلی کی بھی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ پالیسی بورڈ میں پیشہ ورانہ مہارت اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو مزید مضبوط کیا جائے۔
احد چیمہ نے ڈریپ پالیسی بورڈ میں ہیلتھ اکانومسٹ اور پبلک ہیلتھ ماہر کو شامل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مجوزہ تبدیلیوں کے لیے ضروری کارروائی فوری شروع کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری نظام میں فارماسیوٹیکل شعبے کے استحکام، سستی ادویات اور صارفین کے تحفظ کے درمیان توازن ضروری ہے۔ ضروری ادویات کی مسلسل دستیابی یقینی بنانا ریگولیٹر کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں اوریجنیٹر اور موجودہ برانڈز کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہا کہ اوریجنیٹر برانڈز کی قیمتوں کے تعین میں بین الاقوامی ریفرنس پرائسنگ کے ساتھ آزادانہ تصدیقی نظام بھی ضروری ہے۔ انہوں نے ڈریپ کو ڈرگ پرائسنگ فریم ورک میں مضبوط اور آزادانہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کرنے کی ہدایت کی۔
احد چیمہ نے کہا کہ فارماسیوٹیکل مارکیٹ کا پائیدار ہونا ضروری ہے، تاہم پائیداری کے ساتھ ادویات کی عوامی استطاعت بھی یقینی بنانا ہوگی۔ فارماسیوٹیکل شعبے کی جائز ضروریات اور صارفین کے مفادات کے درمیان منصفانہ توازن یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ سستی ادویات تک عوام کی رسائی براہِ راست عوامی فلاح سے منسلک ہے۔
اجلاس میں سیکریٹری صحت محمد محمود، سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبیداللہ، ڈائریکٹر پرائسنگ ڈریپ اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔