خلاصہ
- خانیوال:(دنیا نیوز) پنجاب کے علاقے میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میاں چنوں کے ڈائیلاسز یونٹ میں بچیوں اور ایک خاتون سمیت 6 مریضوں میں ایچ آئی وی کی علامات ظاہر ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد مریضوں اور ان کے لواحقین میں تشویش پائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق نجی لیبارٹری کی رپورٹس میں عفیفہ سمیت دو بچیوں کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم سرکاری اور نجی لیبارٹری رپورٹس میں مبینہ تضاد پایا جا رہا ہے، متاثرہ مریضوں کو مزید تشخیص اور علاج کے لیے ملتان ریفر کر دیا گیا ہے۔
عفیفہ کی والدہ کے مطابق بچی ایک سال سے زائد عرصے سے ٹی ایچ کیو ہسپتال میاں چنوں میں ڈائیلاسز کرا رہی ہے اور انہیں شبہ ہے کہ ڈائیلاسز کے دوران بچی میں ایچ آئی وی وائرس منتقل ہوا۔
والدہ کا کہنا ہے کہ عفیفہ اس وقت گھر میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے، انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور بچی کے علاج کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب ایم ایس ٹی ایچ کیو میاں چنوں ڈاکٹر محمد آصف کے مطابق عفیفہ کا 9 ستمبر کو کیا گیا ایچ آئی وی ٹیسٹ منفی تھا، ڈائیلاسز مشین سے ایچ آئی وی منتقل ہونے کا امکان نہیں، تاہم یہ ممکن ہے کہ کسی مریض کو ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کا خون لگنے سے وائرس منتقل ہوا ہو۔
ایم ایس کے مطابق ایچ آئی وی کی حتمی تصدیق پی سی آر ٹیسٹ کے بعد ہی ممکن ہوگی، عفیفہ سمیت مریم اور روبینہ میں بھی ایچ آئی وی کی علامات ظاہر ہوئی ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی رپورٹس مزید تشخیص کے لیے ایڈز سنٹر ملتان بھجوا دی گئی ہیں۔
دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے آنے پر معاملے کو دیکھا جائے گا۔