جاوید ہاشمی کا کپتان کا دماغی اور ڈوپ ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ، مناظرے کا چیلنج

جاوید ہاشمی کا کپتان کا دماغی اور ڈوپ ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ، مناظرے کا چیلنج

ملتان: (دنیا نیوز) مخدوم جاوید ہاشمی نے عمران خان کو چیلنج کر دیا، کہتے ہیں آؤ !دونوں دماغ کا بھی ٹیسٹ کراتے ہیں اور ڈوپ ٹیسٹ بھی، پتہ لگ جائے گا کون کیسے ایکٹو رہتا ہے۔

جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ عمران خان پہلے کہتے تھے دھرنا پلس، اب کہتے ہیں جھوٹ پلس، وہ سوالوں کے جواب کیوں نہیں دیتے؟ سچے ہیں تو مناظرہ کر لیں۔ سابق کھلاڑی نے کپتان کا دھرنے کا سکرپٹ بھی سنایا۔ عمران خان کے ساتھ ساتھ جہانگیر ترین پر بھی سوال اٹھا دیا۔

جاوید ہاشمی نے پورا پلان بتایا، کہتے ہیں کاتبین کے سکرپٹ میں دھرنے کے مقامات بھی طے شدہ تھے اور پارلیمنٹ پر قبضے کا بھی ارادہ تھا، شاہ محمود قریشی نے تسلیم کیا کہ پنجاب میں دھاندلی نہیں ہوئی لیکن کم سیٹیں ملنے پر عمران خان مایوسی کا شکار تھے۔

جاوید ہاشمی نے دھرنے کے پیچھے ہونے والی سازش کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ان کا سامنا کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے میرے سامنے کہا کہ پنجاب میں دھاندلی نہیں ہوئی۔ جاوید ہاشمی نے مطالبہ کیا کہ کیونکہ قوم کے ساتھ دھوکا ہوا لہٰذا کمیشن بننا چاہئے۔ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ عمران خان میں اتنی جرات نہیں کہ وہ میرے سامنے بات کر سکیں، عمران خان میرے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ جاوید ہاشمی نے مطالبہ کیا کہ کمیشن عمران خان کو اور مجھے ایک جگہ بٹھائے اور فیصلہ کرے کہ سچ کیا ہے، جھوٹ کیا ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ قوم عمران خان کا جھوٹ سن کر سکتے میں آ جائے گی۔ جاوید ہاشمی نے یہ بھی کہا کہ آرمی اس معاملے میں ملوث نہیں تھی، ووٹ نہ ملنے پر عمران خان فرسٹریشن کا شکار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے خود مجھے کہا کہ جسٹس (ر) ناصر الملک اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔ جاوید ہاشمی نے دعویٰ کیا کہ میرا اس وقت بھی کہنا تھا کہ دھرنا کامیاب نہیں ہو گا، میں نے جہانگیر ترین سے کہا کہ انگلی اٹھانے والا امپائر کہاں ہے؟

جاوید ہاشمی نے استفسار کیا کہ پوچھیں، جج صاحبان کی چھٹیاں کیوں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان فرسٹریشن کا شکار تھے، شاید وہ دنیا فتح کرنا چاہتے تھے، جب ہم اسلام آباد پہنچے تو سکرپٹ لکھنے والوں نے لکھا "طاہر القادری صاحب پارلیمنٹ کی طرف بیٹھیں گے، مین سکرپٹ کسی اور نے لکھا تھا، عمران خان کہتے تھے کہ قادری صاحب پہلے جا کر قبضہ کریں گے، پھر ہم جائیں گے۔

جاوید ہاشمی نے بار بار کہا کہ عمران خان کو مناظرے کا چیلنج دیتا ہوں، اداروں میں سے بھی لوگ آ جائیں، سیاست دان بھی استعمال ہوں، ایسا کہاں ہوتا ہے، ججوں کی چھٹیاں منسوخ کی گئیں، کیا کوئی عذاب آ گیا تھا؟