خلاصہ
- انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت بارہ حکومتی شخصیات کی حد تک استغاثہ مسترد کر دیا، عدالت نے آئی جی پولیس اور سابق ڈی سی او لاہور سمیت ایک سو چوبیس پولیس اور مقامی انتظامیہ کے افسران کو طلب کر لیا۔
لاہور: (دنیا نیوز) انسداد دہشت گردی عدالت کے جج چودھری محمد اعظم نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر پاکستان عوامی تحریک کے استغاثے پر فیصلہ سنا دیا۔ عوامی تحریک کی جانب سے منہاج القرآن کے ڈائریکٹر جواد حامد نے استغاثے میں وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حکومتی شخصیات، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران سمیت ایک سو اڑتیس افسران کو طلب کرنے کی استدعا کی تھی۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ اکیس ماہ تاخیر سے دائر کیا گیا اور قانون کے تحت بغیر دستاویزی ثبوتوں کے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، چودھری نثار علی خان، خواجہ سعد رفیق، سینیٹر پرویز رشید، وزیر مملکت عابد شیر علی، وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرسنل سیکرٹری سید توقیر شاہ، ہوم سیکرٹری میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان اور کمشنر لاہور راشد محمود لنگڑیال کو طلب نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے آئی جی پولیس اور سابق ڈی سی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان سمیت ایک سو چوبیس پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسروں اور اہلکاروں کو سترہ فروری کو طلب کر لیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد تحریک منہاج القرآن کے رہنماء جواد حامد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
فیصلے کے وقت انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر عوامی تحریک کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جونہی عدالتی فیصلہ آیا تو انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
عوامی تحریک کے کارکنان کے احتجاج کے باعث سڑک پر ٹریفک کی روانی شدید روانی متاثر ہوئی اور شہری گرین بیلٹ سے اپنی موٹر سائیکلیں گزارتے رہے۔
عوامی تحریک کے رہنماؤں اور وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ باہمی مشاورت کے بعد عدالتی فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کریں گے۔