خلاصہ
- طیبہ تشدد کیس میں مقدمے کی 2 گواہان ماریہ حیات اور نائلہ حیات کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا۔ طیبہ نے عدالت کو بتایا کہ مجھے مارا گیا، ہاتھ جلایا گیا، کمر بھی جلائی گئی اور ڈوئی سے بھی تشدد کیا گیا۔
اسلام آباد: (دنیا نیوز) طیبہ تشدد کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی۔ کیس کی سماعت کے دوران طیبہ سمیت مقدمے کے 4 گواہان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ طیبہ نے عدالت کے روبرو اپنی تمام دکھ بھری داستان سنا دی۔ طیبہ نے اپنا بیان جسٹس محسن اختر کیانی کے روبرو قلمبند کروایا۔ طیبہ تشدد کیس میں مقدمے کی 2 گواہان ماریہ حیات اور نائلہ حیات کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا۔ طیبہ کا عدالت کے روبرو کہنا تھا کہ بھائی مجھے امی کے گھر چھوڑ آئے، وہاں سے پولیس والوں نے مجھے لیا، پولیس نے میرا علاج کروایا اور نشاء باجی نے بھی میرا علاج کروایا۔ طیبہ نے عدالت کو بتایا کہ مجھے مارا گیا، ہاتھ جلایا گیا، کمر بھی جلائی گئی اور ڈوئی سے بھی تشدد کیا گیا۔ طیبہ نے یہ بھی بتایا کہ ماہین باجی نے مجھے مارا جس سے میرا ہاتھ، آنکھ اور کمر زخمی ہو گئی۔ طیبہ کا مزید کہنا تھا کہ میری آخری بار ملاقات پڑوسن ماریہ باجی سے ہوئی، مجھے سردی لگ رہی تھی تب ماریہ باجی نے مجھے کمبل اور روٹی دی۔ مقدمے کی دوسری گواہ ماریہ کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا۔ ماریہ کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ طیبہ کو 26 دسمبر کو دیکھا، طیبہ نے بتایا کہ سب شادی پر گئے ہوئے ہیں تو ہم نے طیبہ کو کھانا دیا، دوسری مرتبہ طیبہ کو 28 دسمبر کو دیکھا، وہ زخمی تھی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی۔