پنجاب: ٹیکس کون اکٹھا کرے گا؟ لوکل گورنمنٹ کے معاملات الجھ گئے

پنجاب: ٹیکس کون اکٹھا کرے گا؟ لوکل گورنمنٹ کے معاملات الجھ گئے

لاہور: (دنیا نیوز) سیاستدان انتخابی میدان میں لڑے۔ انہوں نے ووٹ لئے، نمائندے بنے اور تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد بالآخر بلدیاتی نظام نافذ ہو گیا لیکن لوکل کونسلز اور میونسپل کارپوریشنز کمائیں گی کہاں سے؟ طے ہی نہیں ہو سکا۔

لوکل کونسلز کے پاس کوئی ٹیکس ڈیٹا ہے نہ آبادی کا ریکارڈ۔ وزیر خزانہ پنجاب کی سرپرستی میں بنی پی ایف سی ایوارڈ کمیٹی میں کسی لوکل کونسل کا نمائندہ بھی شامل نہیں۔ لہٰذا متوقع طور پر ان کونسلز کو اصل آمدن اور ضرورت سے کم رقم ملے گی۔

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ دو ہزار تیرہ کے مطابق، تشہیر اور بل بورڈز کی آمدن ضلع کی ملکیت ہے لیکن یہ ٹیکس پی ایچ اے وصول کر رہی ہے اور پی ایچ اے محکمہ ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ کے ماتحت ہے۔ یوں دونوں محکموں میں اختلافات کا بھی خطرہ ہے۔

موجودہ حکومت کے گزرے دور میں ختم کیا گیا ٹال ٹیکس لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں پھر نافذ ہو گیا، جسے ضلع کونسلز اور میونسپل کارپوریشنز اپنی اپنی حدود میں لگائیں گی۔ این ایچ اے کا ٹیکس شامل کریں تو عوام تین ٹیکس ادا کریں گے۔ یوں کھیت سے منڈی تک پہنچنے والی اشیاء مہنگی ہو سکتی ہیں۔

دوہرے تہرے ٹیکسوں کے نفاذ سے جہاں قانونی پیچیدگیاں جنم لیں گی، وہیں عوامی مشکلات بھی بڑھ جائیں گی۔