تازہ ترین
  • بریکنگ :- اقلیتی برادری کو کوٹہ کے حقوق ملنےچاہئیں،وزیرخارجہ بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- اقلیتی برادری کےحقوق کےتحفظ کےلیےاقدامات اٹھانےچاہئیں،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- اقلیتی برادری کے حقوق کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- تمام پاکستانیوں کو یکساں حقوق دینے پر یقین رکھتے ہیں،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- سندھ حکومت میں غیر مسلم کی بھی نمائندگی ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- تقاریرنہیں،عملی اقدامات سےبہتری کی جانب بڑھ سکتےہیں،بلاول بھٹو

مغربی قوتیں کشمیر اور فلسطین پر دہرے معیار کا شکار ہیں

Last Updated On 26 September,2019 10:07 am

لاہور: (تجزیہ: سلمان غنی) ترک صدر رجب طیب اردوان نے جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر کشمیر جیسے سلگتے ایشو، اس کی اہمیت اور حیثیت بارے موثر آواز اٹھا کر جرأتمندی اور حقیقت پسندی کا ایسا باب رقم کیا ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے جذبات و احساسات سے واضح ہو رہا تھا کہ وہ اپنے ملکی مفادات سے بڑھ کر کشمیر کو اہمیت دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور خوشحالی کا عمل کشمیر کے حل کیساتھ ناگزیر ہے، وہ کشمیر کو پاکستان کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ سمجھتے ہیں، ان کے کردار کو پاکستانی اور کشمیری عوام بھلا نہیں پائیں گے۔

اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کشمیر پر عالم اسلام کتنا سنجیدہ ہے ؟ عالمی برادری کشمیر جیسے عالمی اور انسانی مسئلہ کو اہمیت دے رہی ہے ؟ اور جنرل اسمبلی اور دیگر فورمز پر مسئلہ اجاگر ہونے سے اس کے حل کی جانب پیش رفت ہو سکے گی ؟ اور وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر کشمیر ایشو کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے مایوسی کا اظہار کیا ؟۔

جہاں تک کشمیر کاز اور کشمیر کے اندر پیدا شدہ صورتحال پر عالم اسلام کی سنجیدگی اور پریشانی کا سوال ہے تو اس حوالے سے مایوسی کا رجحان ہی سامنے آیا کیونکہ عالم اسلام کے اہم ممالک کے بہت سے مفادات بھارت کیساتھ وابستہ ہیں اور وہ ایسا کوئی طرز عمل اختیار نہیں کرنا چاہتے جس کے باعث ان کے مفادات کو زک پہنچے اور بھارت سے ناراضگی کا خدشہ ہو لیکن عالم اسلام میں ترکی اور ایران دو ایسے ممالک ہیں جنہوں نے ہر طرح کی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر نہ صرف یہ کہ کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال کی مذمت کی بلکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے دنیا کو جھنجھوڑا۔ ترکی اور ایران کے بعد چین واحد ایسا ملک ہے جس نے کھل کر پاکستانی موقف اور منصفانہ حل پر زور دیا۔

دوسری جانب عالمی برادری نے مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ظلم و ستم اور قتل و غارت پر موثر انداز میں آواز نہیں اٹھائی۔ جہاں تک بین الاقوامی اداروں اور دنیا بھر کی قیادتوں اور ذمہ داران کے سامنے مسئلہ کشمیر کی اہمیت اجاگر کرنے کا سوال ہے تو اس حوالے سے حکومت پاکستان کی تگ و دو کو سراہا جانا چاہئے۔ دوسری جانب امت مسلمہ میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے عالمی قوتوں اور خصوصاً اہل مغرب کے دہرے معیارات ہیں جو خود انسانیت کے حوالے سے اچھے نہیں۔ لیکن حالات و واقعات کا رخ یہ بتا رہا ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ کشمیر کاز اور مظلوم اور نہتے کشمیریوں کیلئے آواز اٹھانے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا تو یہ کوششیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔