تازہ ترین
  • بریکنگ :- نواب شاہ:یوسی 4 وارڈنمبر 3 کامکمل غیرسرکاری غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- جھڈو:پیپلزپارٹی کے امدادعلی شاہ 800 ووٹ لے کر کامیاب
  • بریکنگ :- جھڈو:ایم کیو ایم کے محمد کامران 40ووٹ حاصل کرسکے
  • بریکنگ :- میونسپل کمیٹی ٹھل کے 10 وارڈزسےپیپلز پارٹی کامیاب
  • بریکنگ :- عمرکوٹ: ٹاؤن کمیٹی ڈھوروناروکے 5 وارڈ پر پیپلز پارٹی ، 3 پر جی ڈی اےکامیاب
  • بریکنگ :- سندھ بلدیاتی انتخابات، لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کو شکست
  • بریکنگ :- جی ڈی اے اورلاڑکانہ عوامی اتحاد 2 ٹاؤن کمیٹیوں سے کامیاب
  • بریکنگ :- ڈوکری ٹاؤن کمیٹی کے 4میں سے 3 وارڈزپرجی ڈی اے اورلاڑکانہ عوامی اتحادکامیاب
  • بریکنگ :- باڈہ ٹاؤن کمیٹی کے 14میں سے 8 وارڈزپرلاڑکانہ عوامی اتحاداورجی ڈی کامیاب
  • بریکنگ :- نواب شاہ :پیپلزپارٹی کےآفتاب احمد غوری 232 ووٹ لے کر کامیاب
  • بریکنگ :- نواب شاہ :آزاد امیدوار طالب حسین 124 ووٹ لے سکے
  • بریکنگ :- نوکوٹ :ٹاؤن کمیٹی وارڈ نمبر 3 کامکمل غیرسرکاری غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- نوکوٹ: ایم کیو ایم پاکستان کے ریحان رضا 602 ووٹ لے کر کامیاب
  • بریکنگ :- نوکوٹ:پیپلزپارٹی کےبابوسہیل امیدقائمخانی 323 ووٹ لےسکے
  • بریکنگ :- میرپورماتھیلو:میونسپل کمیٹی وارڈنمبر 6 کا مکمل غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- میرپورماتھیلو: پیپلزپارٹی امیدوار شہبازخان 906 ووٹ لےکر کامیاب
  • بریکنگ :- میرپور ماتھیلو: جی ڈی اے کے نذر محمد بزدار 354 ووٹ لےسکے
  • بریکنگ :- شکارپور:ٹاؤن کمیٹی گڑھی یاسین وارڈنمبر 3 اور 4 سےپیپلزپارٹی امیدوار کامیاب
  • بریکنگ :- عمرکوٹ:میونسپل کمیٹی وارڈنمبر 14 کامکمل غیرسرکاری غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- عمرکوٹ: 14وارڈزمیں سے 8 پرپیپلزپارٹی اور 6 پرپی ٹی آئی کامیاب
  • بریکنگ :- نصیرآباد:ٹاؤن کمیٹی وارڈنمبر 8کامکمل غیرسرکاری غیرحتمی نتیجہ
  • بریکنگ :- نصیرآباد: پیپلز پارٹی کےرمیش لعل 408 ووٹ لے کرکامیاب
  • بریکنگ :- نصیرآباد:آزاد امیدوار بشیر احمد شیخ 206 ووٹ حاصل کرسکے
  • بریکنگ :- جھڈو: ٹاؤن کمیٹی وارڈ نمبر 11 کا مکمل غیر حتمی نتیجہ

سموگ کا روگ صورت حال ابتر کر گیا، بارش کیلئے نگاہیں آسمان پر جم گئیں

Last Updated On 22 November,2019 01:04 pm

لاہور: (دنیا نیوز) سردیوں کے آغاز پر سموگ کا روگ مستقل صورت اختیار کر گیا۔ سموگ کے ساتھ دھند کے اشتراک نے صورت حال کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔ صورت حال میں بہتری کے لیے نظریں بارش پر ہی جم ہوئی ہیں۔

سموگ شروع ہونے کے بعد سے کئی ایک مواقع پر لاہور آلودگی کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے اور دوسرے نمبروں پر بھی براجمان رہا ہے۔ اِس دوران شہر کے بعض علاقوں کا ائیرکوالٹی انڈیکس 600 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے بھی تجاوز کر گیا۔ تاحال سموگ کی صورت حال کافی ابتر دکھائی دے رہی ہے اگرچہ حکام کی طرف سے مسلسل اقدامات اُٹھانے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔

سموگ کے حوالے سے صورت حال میں بہتری کے لیے اب تمام نظریں آسمان پر جمی ہوئی ہیں کیوں کہ صرف بارش ہونے سے صورت حال میں بہتری آسکتی ہے۔ اِس حوالے سے محکمہ موسمیات کے پاس بھی فی الحال کوئی خوشخبری نہیں ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق ہرسال سموگ کی شدت میں اضافہ درختوں کی بے دریغ کٹائی کا نتیجہ بھی ہے۔